Aalmi Mehnatkash Israel Ko Lagam De Sakte Hain
اگر اسرائیل غزہ میں واقعی جنگ بندی پر عمل درآمد میں سنجیدہ ہو تو اسے گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔ کیونکہ پھر تنازعے کے اصل اسباب اور ان کے حل کی بات ہوگی اور یہ پگڈنڈی ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان تک بھی جا سکتی ہے۔
اسرائیل کو فی الحال نہ صرف غزہ اور مغربی کنارہ فلسطینیوں سے پاک چاہیے بلکہ جنوبی لبنان اور جنوبی شام کے بھی کچھ علاقے چاہیں تاکہ اس کے نہ ختم ہونے والے احساسِ عدم تحفظ کی بھوک کچھ عرصے کے لیے کم ہو سکے۔ چنانچہ وہ بھلا کیوں ایسی سازگار فضا چاہے گا جس کے نتیجے میں پرامن بقاِ باہمی کے اصول پر امن قائم ہو سکے۔
گزشتہ دو برس میں لاکھوں لوگ دنیا بھر میں سیکڑوں بار سڑکوں پر آئے۔ کئی ہزار کلوگرام کاغذ قرار دادوں، یادداشتوں اور مطالبات کی شکل میں ضایع ہوگیا۔ اسرائیل کو ہر مرحلے میں بارہا سیاسی و سفارتی خفت بھی اٹھانا پڑی۔ اس کی یہودی مظلومیت کی تین ہزار سالہ کہانی کا اثر بھی کسی حد تک دنیا کے ذہنوں سے زائل ہوگیا۔ مگر ہوا کیا؟ زمینی نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
تو پھر ایسی کونسی قوت یا راہ ہے جس کے ذریعے اسرائیل کو ایک نارمل ریاست کی طرح رہنا سکھایا جا سکے۔ ایک راستہ اب بھی ہے۔ ترقی یافتہ صنعتی یورپ کے مزدوروں کی طاقت ہوا کا رخ بدل سکتی ہے۔ مگر کیسے؟
امریکا کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا اقتصادی ساجھے دار یورپ ہے۔ اسپین اور سلووینیا کی حکومتوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف جن پابندیوں کا اعلان کیا ان پر حقیقی انداز میں عمل بھی کیا۔ مگر آئرلینڈ بظاہر ایک جانب غزہ میں نسل کشی کا پرزور مخالف........
