menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Siasat Nahi Insaniyat

38 0
22.08.2026

جنیدخان ہمارے اچھے دوست اوران کے بڑے بھائی نقیب اللہ تحریک انصاف ہزارہ کے کٹر، پرجوش اورایک دیرینہ نظریاتی کارکن ہیں جوپارٹی کے اہم عہدوں پربھی فائزرہے ہیں۔ اس خاندان کوپی ٹی آئی نظریات کی وجہ سے کئی طرح کی آزمائشوں اورمصیبتوں سے گزرناپڑا۔ نقیب اللہ نے کپتان کی خاطرقیدوبندکی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ سیاسی نظریات، سوچ اورجدوجہدمیں جنیدخان بھی اپنے بڑے بھائی کے ہمسفر ہیں اوریہ بھی کپتان کواپنالیڈرمانتے ہیں۔ کچھ دن پہلے اچانک کہیں ملاقات ہوئی توجنیدخان پریشان نظرآئے۔ ہم نے پریشانی کی وجہ پوچھی توکہنے لگے اپنالیڈراورکپتان بیمارہیں توپریشان نہ ہوں؟

جنیدخان کی یہ بات سن کرہمیں لیگی کارکنوں کے وہ اداس چہرے یادآنے لگے جومیاں نوازشریف اوربیگم کلثوم نوازکی بیماری پردکھ، درداورپریشانی کے غبارسے اٹکے ہوئے تھے۔ لیڈروں کی بیماریاں اورتکالیف عام لوگوں اورسیاسی مخالفین کے لئے معمولی بات ہوتی ہے لیکن ان کاایک نظریاتی کارکن پرکیااثراورفرق پڑتاہے یہ اللہ ہی جانتاہے۔ یہ توہم سب جانتے ہیں کہ عمران خان بیمارہیں اوراسی وجہ سے عمران خان کی صحت اوربیماری آج کل ہرجگہ زیربحث ہے۔ کوئی گھر، محفل اورپروگرام ایسانہیں جواس بحث سے پاک ہو۔ جہاں بھی آپس میں ملنے اورگپ شپ لگانے والوں کی تعداددوسے تین ہوتی ہے تووہاں اس موضوع پر عمران خان کا ذکرخیرشروع ہوجاتاہے۔

سیاسی ونظریاتی اختلاف اورگپ شپ اپنی جگہ لیکن جنیدخان جیسے کھلاڑیوں کودیکھ کرکپتان کے کھلاڑی سچ میں اس وقت خان کی بیماری اورصحت کے حوالے سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ جس طرح کسی وقت لیگی کارکنوں کے چہروں پر میاں نوازشریف اوربیگم کلثوم نوازکی بیماری کااثردورسے دکھائی دیتاتھااسی طرح اب........

© Daily Urdu