Shor Aur Sach |
آج سے ایک سو اناسی سال پہلے ویانا کے سب سے بڑے اسپتال میں ایک ڈاکٹر نے صرف اتنا کہا کہ ہاتھ دھو لو اور دنیا نے اُسے پاگل خانے میں بند کر دیا۔ اِگناز سیمل وائس نے دیکھا کہ جہاں ڈاکٹر ہاتھ دھو کر آتے ہیں، وہاں زچگی کے بعد مرنے والی ماؤں کی تعداد سو میں سے ایک رہ جاتی ہے۔ اُس نے ثبوت رکھے۔ اعداد دکھائے مگر مجمع نہ مانا۔ اِس لیے نہیں کہ وہ غلط تھا، بلکہ اِس لیے کہ وہ اُن کے پرانے یقین سے ٹکراتا تھا۔ سچ ہار گیا۔ شور جیت گیا۔
آج اُسی کے نام پر ایک اصطلاح ہے "سیمل وائس ری فلیکس" نئے سچ کو صرف اِس لیے ٹھکرا دینا کہ وہ ہماری پرانی سوچ سے میل نہیں کھاتی۔
آج ذہنی صحت کے میدان میں وہی کھیل دوبارہ کھیلا جا رہا ہے۔ ایک آواز موبائل کی سکرین سے چیخ کر آتی ہے "ذہنی صحت کوئی چیز نہیں۔ یہ امیروں کا چونچلا ہے۔ ڈپریشن نام کا کوئی مرض نہیں بس شکرگزاری کی کمی ہے"۔ لاکھوں لائکس۔ ہزاروں شیئر۔ ہر طرف واہ واہ مگر لائک سچ کا ثبوت نہیں ہوتے۔
دوسری آواز خاموش ہے، سنجیدہ ہے، اعداد کے ساتھ آتی ہے۔ ستمبر دوہزار پچیس میں عالمی ادارۂ صحت نے........