Ilm e Nafsiyat Ka Mukhtasir Jaiza
علم نفسیات کا مختصر جائزہ
جدید علم نفسیات میں جن مسائل کا مطالعہ کیا جاتا ہے یہ اس وقت تک فلسفہ کا موضوع رہے جب تک علم نفسیات بذات خود سائنسی بنیادوں پر استوار نہیں ہوا۔ قدیم یونانی فلاسفرز نے ہمارے اردگرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کی جستجو کی۔ ہم کیسے سوچتے ہیں؟ کس طرح رویوں کا اظہار کرتے ہیں؟ یہاں تک کہ آج شعور اور ذات، دماغ اور وجود، معلومات اور نظریات ہماری مباحث کا حصہ ہیں۔ آج ہم اس چیز پر بھی بحث کرتے ہیں کہ معاشرے کیسے قائم ہوتے ہیں اور اچھی زندگی کیسے گزاری جاسکتی ہے؟
سائنس کی تمام شاخیں فلسفہ کی ارتقاء یافتہ شکل ہیں جو سولہویں صدی کے بعد پھلتی پھولتی رہیں یہاں تک کہ سائنسی انقلاب برپا ہوگیا۔ سائنسی ترقی نے جس دنیا میں ہم رہتے ہیں اس کہ متعلق بیشمار جوابات فراہم کیے ہیں تاہم یہ آج بھی ہمارا "دماغ" کیسے کام کرتا ہے کہ متعلق مصدقہ جواب دینے سے قاصر ہے۔ جو بھی ہو سائنس کی مدد سے آج ہم اس مقام پر آکھڑے ہوئے ہیں جہاں ہم دماغ کے متعلق نہ صرف ٹھیک سوالات پوچھ سکتے ہیں بلکہ مختلف نظریات پر عمل کر کہ ان کی صداقت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔
سائنسی انقلاب میں........
