Bimar Muashra |
ِاس وقت ہر تیسرا فرد کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا شکار ہے۔ آپ کے دائیں بیٹھا، آپ کے بائیں کھڑا، یا خود آپ۔ اِس ملک کے تقریباً بتیس فیصد لوگ۔ مگر ہم نے اِسے بیماری ماننے سے انکار کر دیا اور یہی انکار سب سے بڑی بیماری بن گیا ہے۔ یہ تعداد ہماری آبادی میں ذہنی مسائل میں الجھے لوگوں کا سادہ سا حساب ہے۔ بیمار معاشرے کی پہچان کسی رپورٹ میں نہیں ملتی، سڑک پر ملتی ہے۔ ایک معمولی ہارن پر پستول نکل آتا ہے۔ ایک کمنٹ باکس نفرت کے لاوے میں بدل جاتا ہے۔ رشتہ داروں کی خوشی ہضم نہیں ہوتی، پڑوسی کی ترقی زہر لگتی ہے۔ ہم مسلسل چڑچڑے ہیں، مسلسل تھکے ہوئے، مسلسل کسی سے الجھنے کو تیار۔ یہ محض بداخلاقی نہیں۔ یہ بے قابو جذبات ہیں۔ ایک پوری قوم جو اپنے اندر کے دباؤ کو سنبھالنا نہیں جانتی۔ جو قوم اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے، وہ اپنے مستقبل پر کیا قابو رکھے گی؟
اور جب یہ زہر گھروں میں اترتا ہے۔ ایک دباؤ میں پِسا ہوا باپ، ایک بجھی بجھی سی ماں اور اُن کی چھاؤں میں پلتا وہ بچہ جو خوف اور چیخ کو زندگی کا معمول سمجھ کر بڑا ہوتا ہے تو کیاہوتا ہے؟ ایک بیمار نسل اپنی........