Askari Tarbiyat Ko Lazim Kiya Jaye |
عسکری تربیت کو لازم کیا جائے
اللہ تعالیٰ شہدا کے اہل خانہ کو صبر عظیم عطا فرمائے آمین۔ کچھ ویڈیو کلپ تو جان لیوا ہوتے ہیں۔ جوان کا جسد خاکی گاؤں پہنچا، لخت جگر کی وردی باپ کو سیلوٹ کے ساتھ پیش کی گء تو ننگے پیر سفید پوش باپ شدت غم سے اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہ رہ سکا اور زمین پر گر گیا۔ اس ملک کا ایک غدار طبقہ اپنے بیہودہ پروپیگنڈا سے شہدا کے اہل خانہ کو بھی جب ایذا پہنچانے سے گریز نہیں کرتا تو دل کرتا ہے ان خبیثوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ ملک و قوم کی خاطرجان پر کھیل جانا ہر ماں کے لال کانصیب نہیں۔
ہماری دلی تمنا ہے کہ پاکستان میں فوجی تربیت کو لازم کیا جائے تا کہ ہر شہری کو تجربہ ہو سکے کہ ملک و قوم کا محافظ بننا آسان جاب نہیں۔ شہادت پر دستخط کرنا مذاق نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج نے جو قربانیاں دیں، وہ بے مثال ہیں۔ اس طویل جنگ میں پاک فوج کو نہ صرف بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ اسے اپنی جنگی حکمت عملی اور تربیت کے روایتی ڈھانچے کو بھی مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑا۔
2001ء سے اب تک پاک فوج کے لاکھوں افسران اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس میں عام سپاہیوں سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک کے افسران شامل ہیں۔ مسلسل جنگی حالت میں رہنے، اپنوں کو کھونے اور بار بار دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنے سے فوجیوں اور ان کے خاندانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایک عام شہری اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس جنگ نے جی ایچ کیو پر حملے سے لے کر مہران بیس اور کامرہ بیس جیسے اہم فوجی تنصیبات کو جو نقصان پہنچایا، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ پاکستان میں عام شہریوں کے لیے فوجی تربیت لازمی نہیں ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج (پاک فوج، پاک فضائیہ........