menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Haye Maa Tology (1)

16 0
22.04.2026

ہائے ماں ٹالو جی (ھیماٹالوجی) (1)

انجن کی دریافت سے قبل سفر کا دارومدار جانوروں پہ ہی تھا۔ جلد منزل تک پہنچنے کے لئے گھوڑے ہی بہترین سواری تصور کئے جاتے تھے اور نہر کنارے بنے ڈاک بنگلے اور ڈاک چوکیوں سے ہمارے باپ دادا بخوبی واقف تھے۔ یہ ڈاک بنگلے سفر کے دوران انگریز صاحب بہادر اور ان کے گھوڑوں کے سستانے اور عارضی پڑاوَ کا ذریعہ تھے اور ڈاک چوکیاں ان صاحب بہادروں کے "صاحبان" کے لئے جو ایک چھاوَنی سے دوسری چھاوَنی جانے کے دوران استعمال کرتے۔ یہیں گھوڑے بھی بدلے جاتے اور ساتھ ساتھ ڈاک کی ترسیل کا نظام بھی انہی ڈاک چوکیوں کے ذریعے جاری رہتا۔

سادہ وقت تھا، لوگ گھر میں فارغ گھومنے والے کو بھی "ڈاک چوکیوں پہ رہنے" کی جگت کیا کرتے تھے۔ تب عام عوام میں پڑھنے پڑھانے کا رواج کم ہی تھا تو ڈاکیا ناصرف آنے والی چٹھی پڑھتا تھا بلکہ اس چٹھی کا جواب لکھنا بھی اسی کے فرائض میں شامل سمجھا جاتا تھا۔ یوں میاں ڈاکیا گھروں کے اندرونی معاملات کا رازدار ہونے کے باعث گھر کا فرد ہی شمار ہوتا تھا۔ ڈاکیا دن بھر چٹھیاں بانٹنے کا فرض ادا کرتا۔ خوشخبری کی چٹھی والے گھر سے لسی پانی بھی چلتا رہتا اور بسا اوقات کسی غمگین خبر کا بوجھ بھی بانٹتا۔

وقت نے کچھ کروٹ لی، تیز تر پیغام رسانی کے لئے "تار" بھیجے جانے لگے۔ چٹھیوں کے اس دور میں "تار" کو وہی خصوصی اہمیت اور مقام حاصل تھاجو سواریوں میں گھوڑے کو حاصل تھا۔ "تار" کا سیدھا سیدھا مطلب یہی سمجھا جاتا تھا کہ کسی عزیز کی موت کی خبر ہے جبھی تار بھیجی گئی ہے تا کہ جلد خبر پہنچ جائے اور متعلقہ افراد آخری رسومات کے لئے فوری رختِ سفر باندھیں۔ کبھی کبھار تو "تار آئی ہے" کی آواز ہی کہرام بپا کرنے کو کافی ہوتی تھی تاوقتیکہ پڑھنے والا اصل خبر نہ سنا دیتا۔ ویسا ہی معاملہ آج کے دور میں ہم نے کلامِ الہی کے ساتھ روا رکھا ہے، عزت و احترام کے لئے اسے بلند طاق پہ رکھ چھوڑا ہے، یہ پڑھے، جانے اور سمجھے بغیر کہ اس میں خالق نے کیا احکامات نازل فرمائے ہیں۔

سائنسی ایجادات اور ارتقاء نے اس "تار" کو ایک نئی شکل میں ترقی دی۔ تار کے دونوں سروں پہ ٹیلی فون لگا دیا اور پھر گھروں میں ڈاکئے کے سائیکل کی گھنٹی کی بجائے ٹیلی فون کی ٹرن ٹرن ٹرن گونجنے لگی۔ ٹیلی فون کے اولین دور میں یہ سہولت بھی کسی کسی گھر میں ہوتی تھی لیکن اس کے استعمال اور فیض سے سبھی فائدہ اٹھاتے تھے۔ ایک گھر کے فون سے پورا محلہ فیض یاب ہوتا تھا۔ اس سہولت کی وجہ سے ہونے والی وقتی ملاقات بھی ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ رہنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی اور اچھے برے میں ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے اور دکھ سکھ میں ساتھ کھڑے ہوتے۔

پھر "خوب سے خوب تر کی جستجو" اور "تیز سے تیز ترین" کا دور شروع ہوا۔ تار نے تو جیسے باندھ رکھا تھا۔ ایک ہی جگہ ٹکی ہو کے بیٹھے رہو اور سب کے سامنے بات کرو۔ سب گھر والے با جماعت قطار میں کھڑے ہو کے بات کرنے کا انتظار کرتے۔ اس سارے ہنگامے میں محرمیت (پرائیویسی) تیل لینے چلی جاتی اور یار لوگ منہ بسور کے رہ جاتے۔ اس سب میں صحیح شامت گھر میں چھوٹے بھائی کی آتی جس کی ڈیوٹی میں یہ بھی شامل ہوتا کہ محلے میں جس گھر کا فون آیا ہے ان کو دوڑتے ہوئے جا کے پیغام دے آئے کہ فون آیا ہے۔ ادھر فون کی گھنٹی کھڑکتی ادھر موصوف کا مزاج پھڑک جاتا کہ مجھ سے نہیں جایا جاتا اور اگر اس وقت اس کے "اپنے فون" کا وقت ہو جاتا تو نظروں، اشاروں، کنایوں سے ماں جی کو کہا جاتا کہ ان محلے والوں کو جلدی ٹالو کہ کہیں بعد میں خود کو نہ ٹہلنا پڑ جائے۔

یوں پیغام رسانی کا یہ سفر گھوڑوں اور خطوں سے شروع ہو کر تار اور پھر ٹیلی فون تک پہنچنا محض سائنسی ترقی کی ایک سیدھی سادی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے معاشرتی رویوں، باہمی تعلقات اور ترجیحات کے بدلتے ہوئے رنگوں کی ایک مکمل داستان ہے۔ اس سفر میں جہاں رفتار بڑھی، فاصلے سمٹے اور سہولتیں میسر آئیں، وہیں انسانوں کے درمیان وہ بےساختہ قربت، انتظار کی مٹھاس اور تعلق کی گہرائی بھی کہیں نہ کہیں مدھم پڑتی گئی۔ پہلے ایک خط آنے میں دن لگتے تھے مگر اس کے الفاظ میں خلوص اور اپنائیت گھلی ہوتی تھی۔ پھر تار نے رفتار تو دی مگر جذبات کو مختصر کر دیا اور ٹیلی فون نے آواز تو پہنچا دی، مگر اس کے ساتھ وہ اجتماعی پن اور سادہ خوشیاں بھی رفتہ رفتہ کم ہوتی گئیں۔ یوں ترقی کے اس سفر سے سہولت تو ملی لیکن ساتھ میں انسانی رشتوں کی نوعیت بھی خاموشی سے بدلتی رہی۔


© Daily Urdu