Cash Back |
کیش بیک (استردادِ رقم)
دوسری دہائی کے شاید دوسرے ہی سال کی بات ہے۔ دفتر میں معمول کے کاموں کی مصروفیت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ، تیسری میز سے چوتھی میز تک کی راہیں ناپی جا رہی تھیں کہ شعبہ مالیات (فنانس ڈیپارٹمنٹ) سے ایک صاحب نے درخواست کی کہ ایک چھوٹی سی غیر رسمی ملاقات ہے، ذرا سی دیر کو آ جائیں۔ شعبہ مالیات کو تب میں ازراہِ تفنن شعبہ مال پانی کہا کرتا تھا کہ ٹھنڈے پانی کے کولر تک جانے کے لئے شعبہ مال کا رخ کرنا پڑتا تھا تو پانی کی نسبت سے مال پانی کہنا شروع کر دیا۔ گو یہ محض مزاح کی بات تھی لیکن فی زمانہ مروجہ شہرت کی وجہ سے مالیات سے وابستہ احباب اس میں چھپی طنز اور مخفی کاٹ سے بخوبی واقف تھے۔
غیر رسمی ملاقات میں دیگر ھمکاران (آفس کولیگز) کے علاوہ بینک کے کوئی آفسر بھی تھے اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ بازارکاری کے شعبے (مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ) سے تھے۔ انہوں نے اپنے بینک کی طرف سے جاری کردہ کریڈٹ کارڈز اور ان کے فوائد و ثمرات پہ روشنی ڈالی اور ہر ممکنہ پہلو بیان کیا کہ یہ کریڈٹ کارڈذ کیسے کیسے زندگی میں مزید سہولتیں پیدا کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے۔ جیسا کہ بازارکاری والوں کا وطیرہ ہوتا ہے، وہ اپنے تئیں پورا زور لگا رہے تھے کہ چند ایک بندے تو آج ضرور گھیر لئے جائیں اور ان کا متعین........