Safarat Kari Khel Nahi

سفارتکاری کھائی کے اوپر بندھی ہوئی رسی پر ڈنڈا تھامے توازن برقرار رکھتے ہوئے چلنے کے مترادف ہے۔ ذرا سا توازن بگڑ جائے تو برسوں کی محنت اور تعلقات لمحوں میں زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی نشیب و فراز آئے، مگر تبدیلی کے نعرے سے آنے والے دورِ حکومت نے سفارتی محاذ پر جس انداز سے کام کیا اسے ملک کی خارجہ پالیسی کا سب سے غیر سنجیدہ اور نقصان دہ دور کہا جا سکتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ موجودہ ہائبرڈ سسٹم جسے جمہوری بھی نہیں کہا جا سکتا اس میں تعلقات بہتر سمت میں جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر غیر جمہوری فضا میں بھی سفارتکاری بہتر ہو رہی ہے تو کیا یہ ہمارے سیاسی ڈھانچے کا المیہ نہیں؟

ولی عہد محمد بن سلمان نے ذاتی طیارہ فراہم کرکے پاکستانی وزیراعظم کو امریکا روانہ کیا۔ مگر دورانِ پرواز ہی میزبان کے خلاف ریمارکس دیے گئے اور وہاں پہنچ کر امریکی صدر کو خوش کرنے کی خاطر سعودی عرب کو "اُجڈ قبائلی معاشرہ" کہا گیا۔ ولی عہد نے ناراض ہو کر طیارہ واپس بلا لیا۔ وطن واپسی پر ایک کابینہ اجلاس میں ولی عہد کے بارے سخت زبان استعمال کی گئی، جو مبینہ طور پر سفارتی ذرائع تک پہنچ گئی۔ کہا جاتا ہے فواد چوہدری نے ہی سعودی سفیر کو اس بارے آگاہ کیا تھا۔ سعودی سفیر اس پنجابی گالی کا ترجمہ پوچھتا پھرتا تھا۔

کشیدگی بڑھتے بڑھتے اس نہج پر پہنچی کہ خان صاحب نے عرب بلاک یا او آئی سی کے مقابل ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ متبادل "اسلامی بینک" یا بلاک بنانے کی دعوت دی۔ اس پر سعودی عرب نے تین ارب ڈالر فوری واپس کرنے کا مطالبہ کیا جو اس نے پاکستان کے ریزرو میں ڈیپازٹ کرائے تھے اور تیل کی فراہمی روکنے کی دھمکی بھی دی۔ معاملہ اس قدر سنگین ہوا کہ فوج کو مداخلت کرنی پڑی۔ چین سے ایک ارب ڈالرز لے کر سعودیہ کو لوٹانے پڑے اور سفارتی چینل سے معذرت کرنا پڑی۔

پاکستان اور چین کے تعلقات "اسٹریٹجک پارٹنرشپ" کہلاتے ہیں، مگر اس دور میں ان پر بھی خراش آئی۔ سی پیک کی خفیہ دستاویزات عام کی گئیں اور معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا۔ چین نے معاملات سلجھانے کو اعلیٰ سطحی وفد بھیجا مگر اسے ایک جونیئر وزیر مراد سعید کے سپرد کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چین نے سی پیک کے کئی منصوبے روک دیے۔ فوج کو پھر سے مداخلت کرنا پڑی اور وزیراعظم کو چین بھیجا گیا تاکہ معاملات درست کریں۔

جب........

© Daily Urdu