Nasir Khan Durrani Aur Police Act
ناصر خان درانی اور پولیس ایکٹ
ناصر خان درانی مرحوم پولیس سروس میں بے باک، دیانتدار اور بہت اچھی شہرت کے حامل افسر تھے۔ سنہ 2013 میں عمران خان صاحب نے اعلان کیا کہ خیبرپختونوا کی پولیس کو پاکستان کی مثالی پولیس بناؤں گا۔ ناصر خان درانی کو آئی جی پولیس لگا دیا گیا۔ اگلے چار سال میں ناصر درانی نے دو بار استعفیٰ دینے کی پیشکش کی مگر ان کو کام جاری رکھنے کی ہدایات دی گئیں۔ درانی صاحب کو صوبائی حکومت کی جانب سے مداخلت اور سفارشات پر تحفظات تھے۔ ان کو چلنے نہیں دیا جا رہا تھا چنانچہ پولیس کی حالت بھی ویسی کی ویسی رہی جیسے تھی۔ حکومت کو بھی معلوم تھا کہ جس افسر کو اتنے بڑے دعوے کے ساتھ لایا گیا ہے اسے اتنی جلدی رخصت کرنا اپنے ہی دعوے کی تردید کے مترادف ہوگا۔
سنہ 2018 میں مرکزی حکومت ملی تو خان صاحب نے درانی صاحب کو پنجاب بھیج دیا اور پنجاب پولیس ریفارمز اینڈ امپلیمنٹیشن کمیشن کا چئیرمئن بنا دیا۔ یہ کمیشن بس کمیٹی ہی تھی۔ اس کے اختیارات میں سوائے سفارشات پیش کرنے کے کچھ نہ تھا۔ ناصر درانی کو بدلنے کی وجوہات بہت سی تھیں۔ یہ ایسا سیدھا آفیسر تھا جو صرف ناک کی سیدھ میں چلتا تھا۔ صوبائی حکومت کا دباؤ نہیں لیتے تھے اور غیر قانونی کام یا سفارش پر عمل نہیں کرتے تھے۔ ظاہر ہے ایسا افسر سسٹم میں نہیں چل سکتا تھا۔ پرویز خٹک حکومت پولیس پر عملداری چاہتی تھی۔ چنانچہ آخر کار مرکزی حکومت ملنے پر خان صاحب نے صوبائی قیادت کے دباؤ پر انہیں کھڈے لائن لگا دیا اور پھر اکتوبر 2018 میں آئی جی پنجاب طاہر خان کو ہٹائے جانے پر........
