Muhabbat Ki Kahani Nahi Marti |
محبت کی کہانی نہیں مرتی
اپنے سٹوڈیو میں بہت لوگوں سے مفصل گفتگو ریکارڈ کی۔ آٹھ دس ماہ سے لمبی بریک ہے۔ کچھ وقت بعد پھر سے سلسلہ شروع کرتا ہوں۔ بیٹا ساتھ ہی رہتا تھا وہ کیمروں پر نظر رکھتا تھا۔ ہر مہمان شخصیت کے ساتھ گفتگو کے بعد میں اپنے بیٹے سے پوچھتا رہا کہ سناؤ تم نے ان سے کیا سیکھا۔ ایک دن عباس تابش صاحب سے گفتگو ختم کی۔ گھر آیا تو پوچھا کہ کیا سمجھ آئی؟ بولا "بابا آج میں نے سیکھا کہ یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی"۔ میں نے پوچھا مطلب؟ بولا "آپ ان کو خود ہی تو کہہ رہے تھے
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن لوگ کردار نبھاہتے ہوئے مر جاتے ہیں
میں نے کہا کہ ہاں وہ ان کا ہی شعر تھا اس سے تم نے کیا سیکھا؟ بولا "بابا یہی کہ محبت کرنی چاہئیے، وہ نہیں مرتی لوگ مر جاتے ہیں"۔
اس سے پہلے کہ میں اسے سمجھاتا بیگم بول پڑی "شاباش بیٹا، یہی سیکھنا تم، تمہاری عمر آ رہی ہے"۔ پھر مجھے بولی "اور سکھائیں اسے۔ یہ بہت جلد آپ کو "محبت" کرکے بتائے گا پھر آپ کہنا کہ یہ نہیں کرنی تھی۔ اینوں نال لے تے نکل ایتھوں"۔
کچھ دنوں سے بیٹا بار بار سمر کیمپ شروع ہونے کے دن گن رہا تھا۔ اس کو پڑھائی کے لیے اتنا جذباتی میں نے پہلے تو کبھی نہیں دیکھا۔ آئے دن کہتا "بابا سمر کیمپ شروع ہو رہے ہیں، آپ نے پک ڈراپ........