Molana Ki Siasat |
پاکستانی سیاست میں کئی عجب روایات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی مقتدرہ سے شکوہ کرنا ہو تو توپ کا رخ ہمیشہ فوجی جوان کی طرف موڑ دو جس کے ہاتھ میں پالیسی سازی تو ہرگز نہیں ہوتی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اس بار کچھ ایسا ہی کیا۔ غصہ غالباً اسٹیبلشمنٹ پر تھا مگر نشانہ وہ فوجی جوان بن گیا جو یا تو برفانی چوکی میں بیٹھا ہوا ہے، یا بلوچستان کے کسی پہاڑ میں بارودی سرنگوں سے بچتا پھر رہا ہے، یا کسی سرحدی گاؤں میں دہشت گردوں کے تعاقب میں اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ پاکستان میں بڑے لوگوں کا غصہ اکثر چھوٹے لوگوں پر ہی اترتا ہے۔ جرنیل ناراض ہو تو وزیراعظم مارا جاتا ہے اور اگر سیاست دان ناراض ہو تو فوجی سپاہی۔
اس میں شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اتنی ہی پرانی ہے جتنا ریڈیو پاکستان کا وہ اعلان کہ "ملک کے وسیع تر مفاد میں"۔۔ ہر چند برس بعد آئین کو لپیٹ کے الماری میں رکھ دیا جاتا ہے، سیاست دانوں کو تراشا جاتا ہے، جماعتیں بنائی جاتی ہیں،........