Inqilab, Bayania Algorithm Ke Reham o Karam Par
انقلاب، بیانیہ الگورتھم کے رحم و کرم پر
نڈر، بیباک، رُستمِ زماں، ماچو مین، آئی ایس ایف کا دبنگ چہرہ، سپرمین، سپائیڈر مین، ہلک، بیٹ مین وغیرہ وغیرہ کے القابات سے نوازے جانے والے جناب سہیل آفریدی صاحب اس قوم کو ہمارے مرشد کی جانب سے ملنے والے پانچویں تحفے تھے۔ قبل ازیں گنڈاپور صاحب، بزدار صاحب، محمود خان صاحب اور پرویز خٹک صاحب اپنی باری لگا چکے۔ جس دن "عشق عمران میں مارا جاؤں گا" والے آئے تھے اس دن عرض کی تھی کہ صاحب، ذرا دھیرج رکھئیے، چھ ماہ گزار لیجئیے، یہی آپ ہوں گے اور آپ کے پیچھے غدار کے نعرے ہوں گے۔ بمشکل چھ ماہ ہوئے تھے کہ آوازیں اُٹھنے لگیں سہیل آفریدی بھی غدار ہے۔
اب تو خیر صورتحال یہ بن چکی ہے کہ ساری اسمبلی غدار ہوگئی ہے۔ صرف مرشد حق پر کھڑے رہ گئے ہیں۔ مگر کوئی مرشد سے یہ سوال نہیں کرتا کہ مرشد یہ تحائف آپ نے ہی دیے ہوئے ہیں، آپ کا بھی کوئی ذمہ ہے یا نہیں؟ چلیں اچھا ہے، انقلاب بھی آ ہی جائے گا پہلے مرشد تو غداروں سے رہائی پا لیں۔
اور وہاں برطانیہ میں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی آواز کو ہائی جیک کرکے اس پر پارٹی کا رنگ چڑھا کر اپنے مطالبات منوانے نکلے کشمیریوں کی لُٹیا بھی سیاست زدہ کرکے ڈبو دی ہے۔ وہی عمران ریاض و صابر شاکر وغیرہ وغیرہ جیسے جو جی ایچ کیو کے سند یافتہ ٹاؤٹ تھے اور خود مانتے تھے، وہ آجکل انقلاب بیچ رہے ہیں لیکن خمیازہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھگتنا ہے۔ انہوں نے اس طبقے کو اپنی صفوں میں شامل کیا اور انہوں نے موقعہ پر چوکا لگانے کو ترجیح دی۔ چلیں، دونوں راضی تو کیا کرے گا قاضی۔۔ پنجاب سرکار کا گیارہ ارب کا جہاز ہو یا اصلی عوامی اسمبلی کا اپنے واسطے مراعاتی پیکج، کارکنان و ہمدردان کا کام بس زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگانا ہوتا ہے۔ وہ لگائیے اور بی ہیپی آلویز۔
اس سارے قضئیے میں رہ گیا انقلاب تو........
