Cloud Zindagi |
یہ بھی خدا کے بے شمار کرموں میں سے ایک کرم ہے کہ وہ انسان کو خود ہی منفی سوچ رکھنے والوں سے دور کر دیتا ہے۔ وقت، سفر اور مشاہدات کے ساتھ بصیرت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ سمجھ آ جاتا ہے کہ کون مذاق میں سنجیدہ ہے اور کون سنجیدگی میں مذاق کر رہا ہے، کون آپ کو محض برداشت کر رہا ہے اور کون دل سے آپ کی موجودگی سے خوش ہے۔
یہ دنیا ویسے ہی ملنے اور بچھڑنے کا نام تھی مگر سوشل میڈیا نے اس عمل کو کچھ زیادہ ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ اب ہر شخص ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کی زندگی، اس کا طرزِ حیات، اس کی سوچ، اس کے تعلقات، اس کی کامیابیاں اور ناکامیاں سب کچھ لوگوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر لمحہ لوگوں کی نظروں سے سکین ہو رہا ہے۔ وہ کیا کھا رہا ہے، کیا پہن رہا ہے، کہاں جا رہا ہے۔ انسان ہر لمحہ دوسروں کی نظر میں قید ہے، ہر پل ایک خاموش عدالت میں زیرِ سماعت۔ لوگ جج بھی ہیں، جیوری بھی۔
اس "کلاؤڈ زندگی" نے ایک بڑا ظلم یہ کیا کہ لوگ بغیر ملے، بغیر جانے، بغیر پرکھے ہی ایک دوسرے کے ناقد، حاسد یا مداح بن گئے اور اس سارے عمل میں انسان خود کو بھی کچھ زیادہ ہی اہم سمجھنے لگا۔ "میں مقبول ہوں، میں سراہا جاتا ہوں، میں عظیم ہوں "۔ یہ سوچ آہستہ آہستہ انسان کو اس کے اصل معیار سے گراتی جا رہی ہے۔ اب ہر انسان امیج بلڈنگ کی میراتھن کا کھلاڑی بنا ہوا ہے۔ وہ مزید مشہور ہونے کا خواہاں........