Asal Gal Main Dasna Aan |
ریاستوں کو ہمارے لوگ انسان سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اسی لیے آئے دن یہ جملے سننے کو ملتے ہیں کہ "اگر پاکستان میں غیرت ہوتی تو یوں کرتا"، "عربوں میں غیرت نہیں"، "فلاں ریاست بے غیرت ہے اور فلاں غیرت مند"۔ حالانکہ یہ بات شاید سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غیرت اور بے غیرتی انسانوں میں ہوتی ہے، ریاستوں میں نہیں۔
ریاست کوئی انسانی جسم نہیں ہوتی جس میں ہارمونز ہوں، جسے جذباتی اتار چڑھاؤ لاحق ہوں یا جو غصے اور جوش میں فیصلے کرتی پھرے۔ ریاست دراصل اداروں، مفادات اور سفارتکاری کے پیچیدہ نظام پر کھڑی ہوتی ہے۔ بیرونی دنیا کے ساتھ اس کا رشتہ سفارتکاری سے چلتا ہے اور اندرونی طور پر ادارے اس کے ستون بنتے ہیں۔ ریاستیں ایک دوسرے سے جذباتی نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ باہمی مفادات کی بنیاد پر جڑتی ہیں اور جب مفاد پر ضرب پڑے تو وہی رشتے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ دنیا ہزاروں سال سے اسی اصول پر چل رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جس فرد یا ملک کے ہاتھ میں چیک بک ہو جو ہماری معیشت کے لیے فائدہ مند ہو وہ ہمیں دنیا کا سب سے شریف اور مخلص دکھائی دیتا ہے اور جو ہمیں کوئی فائدہ نہ دے سکتا ہو وہ ہمیں سب سے زیادہ گھٹیا نظر آنے لگتا ہے۔
جب تک ایران امریکی خام تیل کے لیے منڈی تھا اور خطے میں اس سمیت اتحادیوں کے مفادات پورے کر رہا تھا اس کی اہمیت ہتھیلی کے چھالے جیسی تھی۔ شاہِ ایران سے زیادہ روشن خیال، عوام دوست........