Metric Ke Lawaris Talaba
میٹرک کے لاوارث طلباء
میٹرک کا امتحانات ہوتے ہی نجی کالجز اور اکیڈمیز نے پری کلاسز اور پلس کلاسز کے نام پر ایک نئی دوڑ کا آغاز کر دیا ہے۔ والدین کو مبارکباد کے فون کالز آ رہے ہیں۔ گلیوں اور چوراہوں پر رنگ برنگے بینرز آویزاں ہیں اور سوشل میڈیا اشتہارات سے بھرا پڑا ہے لیکن اس تمام تر شور و غل میں وہ اہم ترین آواز کہیں دب گئی ہے جسے طالب علم کی اپنی آواز اور اس کا فطری رجحان کہا جاتا ہے۔ میٹرک کا امتحان طالب علم کی زندگی کا سب سے حساس اور فیصلہ کن موڑ ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے ایک فرد کی پیشہ ورانہ شناخت کی بنیاد رکھی جانی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے نظامِ تعلیم میں اس اہم موڑ پر کیریئر کونسلنگ کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ جس وقت بچے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی شخصیت کے پہلو کس شعبے کے لیے موزوں ہیں، اس وقت اسے محض مارکیٹ کے رجحانات، والدین کی ادھوری خواہشات اور سماجی رتبے کی دوڑ میں جھونک دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ وہی ہے جو ہم اپنے ارد گرد دیکھ رہے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں پیشہ ورانہ عدم اطمینان کی ایسی لہر ہے جو خاموشی سے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو چاٹ رہی ہے۔
یہ درست سمت کی نشاندہی نہ ہونے کا شاخسانہ ہی ہے کہ آج ہمارے کئی باصلاحیت ڈاکٹر کلینک چھوڑ کر ٹی وی اینکر بننے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔ کئی ایسے اینکر ہیں جو ٹی وی سکرین پر تو مسکراتے ہیں لیکن ان کا اصل جنون بزنس مین بننا تھا۔ ایک انجینئر کو پینتیس سال کی عمر میں جا کر احساس ہوتا ہے........
