menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kahanion Ke Takhayul Se Aari Bache

14 1
05.02.2026

دنیا میں ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں انسان کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج کا انسان جتنا کنیکٹڈ ہے اتنا ہی تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ سمارٹ فون کی شکل میں پوری دنیا ہماری جیب میں ہے لیکن دوسری جانب اسی سمارٹ فون نے ہمارے دماغ کو اپنی اسکرین میں قید کر لیا ہے۔ ہم معلومات کے سمندر میں کھڑے ہیں مگر فہم کے قطرے کو ترس رہے ہیں۔ اس کیفیت کو "کاگنیٹو ڈرفٹ سنڈروم" کہا جاتا ہے یعنی وہ کیفیت جس میں ڈیجیٹل ڈیوائسز کا مسلسل استعمال انسان کی توجہ، سوچ اور تخلیقی صلاحیت کو آہستہ آہستہ بہا لے جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف بڑوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ وہ بچے جو کبھی کہانیوں سے اپنی دنیا تخلیق کرتے تھے آج ریلز اور شارٹس میں گم ہو چکے ہیں۔ وہ تخیل جو کھلونوں، خاکوں اور کرداروں کے ذریعے پروان چڑھتا تھا اب ایلگورتھم کے ہاتھوں یرغمال ہو چکا ہے۔ دو دہائی قبل تک بچے کہانیاں سنتے تھے تو ان کا تخیل مضبوط ہوتا تھا، ان کا ذہن کہانی سن کر ایک مکمل منظر نامہ تخلیق کرتا تھا۔ آج کا بچہ اس قدرتی صلاحیت سے محروم ہوتا چلا جا رہا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے روزانہ سکرین ٹائم ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر پاکستان میں عملی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ یونیسیف کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ شہری علاقوں میں 8 سے 12 سال کے........

© Daily Urdu