Mera Jism

سب سے پہلے جسم کے بارے میں کچھ حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہمارے جسم میں سب سے زیادہ آکسیجن استعمال کرنے والا حصہ دماغ ہے جو پورے جسم کی 20 فیصد آکسیجن یا انرجی استعمال کرتا ہے جبکہ اس کا وزن جسم کے دیگر اعضاء کے مقابلے میں صرف دو فیصد ہے۔ اس دماغ میں تقریباََ 86 ارب نیورانز موجود ہیں جو معلومات کو پروسس کرتے ہیں دنیاوی اعتبار سے پروسیس کرنے کی یہ صلاحیت آج کے سپر کمپیوٹر سے بہت زیادہ تیز ہے کیونکہ اس میں کثیرالجہتی پائی جاتی ہے۔

اسی طرح آنکھ کی مثال لے لیجیے جو تقریباََ ایک کروڑ رنگوں میں فرق کر سکتی ہے اور یہ انسانی آنکھ ایک سیکنڈ میں 50 مختلف چیزوں پر بیک وقت فوکس کر سکتی ہے انسانی آنکھ 576 میگا پکسل اور یہ ڈھائی ملین نوری سال تک بغیر کسی آلے کی مدد کے دیکھ سکتی ہے۔

کان حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک ہے جو نہ صرف چار لاکھ آوازیں پہچان سکتا ہے بلکہ ایٹم جتنی معمولی حرکت بھی معلوم کر سکتا ہے۔ انسانی کانوں میں صفائی کا خودکار نظام موجود ہے۔ یہ ہمارے جسم کا نیویگیشن سسٹم ہے جس سے توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ تو ایک عام انسان کے کان کی سماعت کا معاملہ ہے سورہ نمل میں حضرت سلیمانؑ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے چیونٹی کی آواز سنی۔

اسی طرح انسانی ناک 10 کھرب مہکوں کو پہچان سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ گرد و غبار کے لیے قدرتی فلٹر کا کام بھی کرتی ہے۔ اسی طرح ایک عام انسان دن بھر میں 20 سے 25 ہزار سانس لیتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے پھیپھڑے ایک دن میں 10 ہزار سے 11 ہزار لیٹر ہوا پروسس کرتے ہیں۔ آپ کو یہاں یہ جان کر زبردست حیرت ہوگی کہ ہمارے پھیپھڑوں کے اندر سانس کی چھوٹی چھوٹی نالیاں ہوتی ہیں جن کی تعداد تقریباََ 300 سے 500 ملین ہوتی ہے اور یہ تھیلی نما نالیاں ایک جال میں لپٹی ہوتی ہیں ان چھوٹی خون کی نالیوں کی دیواریں بہت پتلی ہوتی ہیں تاکہ اکسیجن اور کاربن ڈائی اکسائیڈ آسانی سے گزر سکیں اگر ان نالیوں کو چادر کی طرح زمین پر بچھا دیا جائے تو یہ ایک بیڈمنٹن کورٹ کے برابر ہے۔ تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے۔

چلیں آگے دل کی طرف بڑھتے ہیں جو جسم کا سب سے اہم رکن ہے۔ یہ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے اور سات سے ساڑھے سات ہزار لیٹر خون روزانہ پمپ کرتا ہے۔ یہ تین بھرے ہوئے ٹینکرکے برابر ہے مگر یہاں یہ ایک چھوٹا سا دل جسم کے اندر پیوست بغیر رکے خون پمپ کیے جا رہا ہے اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی رکتا نہیں نہ اسے آرام کی طلب ہے رک گیا تو کھیل ختم۔

دل کے بعد جگر کا ذکر ہو جائے۔ جگر ہمارے جسم میں سب سے زیادہ محنت کرنے والا عضو ہے۔ آپ کو یہ جان کر بھی بہت حیرت ہوگی کہ جگر 500 سے زیادہ مختلف کام سر انجام دیتا ہے اور یہ کام وہ ہیں جن کی میڈیکل سائنس نے اب تک کھوج لگائی ہے مثلاََ شراب منشیات اور جسمانی فضلے کو نکالنا، خون کو صاف کرنا چربی ہضم کرنے میں مدد دینا، ضرورت پڑنے پر توانائی ذخیرہ کرنا پروٹین بنانا کولیسٹرول اور ہارمونز کو کنٹرول کرنا۔ تو تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ اب بات ہو جائے کچھ پیٹ یا معدہ کی جس کے گرد ہماری زندگی گھومتی ہے صبح سے شام تک ہم اسی کو بھرنے کی فکر میں در بدر پھرتے ہیں ہر خوشی غم پر اسی کو بھرنے کی فکر ہے جبکہ اس معدہ میں موجود تیزاب اس قدر طاقتور ہے کہ المونیم زنک اور لوہے وغیرہ........

© Daily Urdu