Rabba Mawan Na Khovi |
آج گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو دستک دینے سے پہلے ہاتھ رک گئے وہ جو ایک آہٹ پر دروازہ کھول دیا کرتی تھی وہ جو میری واپسی تک نیند کو اپنی آنکھوں پر حرام کر لیتی تھی آج خود ایک ایسی ابدی نیند سوئی ہے کہ زمانے بھر کا شور بھی اسے بیدار نہیں کر پا رہا میں نے اپنی زندگی کے چوالیس سال ماں کی شفقت کے سائے میں گزارے یہ محض چار دہائیاں نہیں یہ محبت کی وہ معراج تھی جس کی مثال آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کہیں اور نہیں ملتی میری ماں نے ان برسوں میں مجھے صرف پالا نہیں بلکہ اپنی دعاوں کے حصار میں زندہ رکھا۔
کہتے ہیں کہ کائنات کا سب سے خالص رشتہ ماں کا ہے لیکن میرے لیے یہ رشتہ ایک ایسی پناہ گاہ تھا جہاں دنیا کی تپتی دھوپ کبھی مجھ تک نہیں پہنچ سکی مجھے یاد ہے میں کہیں بھی ہوتا کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جاتی ماتھے پر فکر کی لکیریں لیے وہ مصلے پر بیٹھی رہتی یا دروازے کی سمت نظریں جمائے میرا راستہ تکتی رہتی میری واپسی تک اس کی آنکھوں میں نیند کا گزر نہیں ہوتا تھا وہ کہتی تھی "بیٹا تو گھر آ جاتا ہے تو میری سانسیں بحال ہوتی ہیں" آج وہی سانسیں ابد کے سفر پر روانہ ہوگئیں اور میں اس ادھورے انتظار کی تصویر بن کر رہ گیا ہوں۔
ماں کی محبت کی وہ چھاوں اب ایک یاد بن چکی ہے وہ شفقت بھرا ہاتھ جو میرے سر پر پڑتا تھا تو کائنات کی تمام مشکلیں چھوٹی معلوم ہوتی تھیں چوا لیس برسوں کا ہر لمحہ اس کی بے لوث محبت کا گواہ ہے وہ میری ہر خوشی پر نہال ہو جاتی اور میری ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتی سچ تو یہ ہے کہ ماں کے چلے جانے سے صرف ایک ہستی نہیں جاتی بلکہ وہ دعا کا دروازہ بند ہو جاتا ہے جو ہمیں ہر بلا سے بچائے........