Khairat Nahi, Hunar Chahiye
خیرات نہیں، ہنر چاہئے
پاکستان کی معاشی بقا اور ترقی کے سفر میں سمندر پار پاکستانی ہمیشہ ایک مضبوط ترین ستون ثابت ہوئے ہیں اور حالیہ معاشی اعداد و شمار اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں جہاں حکومتی سطح پر برآمدات کو بڑھانے کے روایتی دعوے اور کوششیں ملکی معیشت کو مطلوبہ رفتار دینے میں ناکام رہیں اور برآمداتی شعبہ توقعات کے مطابق زر مبادلہ کمانے میں پیچھے رہ گیا وہیں دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں نے اپنی مٹی کا حق ادا کر دیا۔
گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستانی برآمدات لگ بھگ تیس ارب ڈالر کے آس پاس رہیں جبکہ اس کے برعکس سمندر پار پاکستانیوں نے تیس ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ ترسیلات زر بھیج کر ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر کو نہ صرف تاریخی سہارا دیا بلکہ ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بھی بچا لیا۔ یہ پیسہ محض ایک رقم نہیں بلکہ پاکستان کے لاکھوں خاندانوں کے چولہے جلانے تعلیم و صحت کی سہولیات فراہم کرنے اور مقامی بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بیرون ملک سے آنے والا یہ سرمایہ براہ راست پاکستان کے بینکنگ نظام میں شامل ہو کر روپے کی قدر کو استحکام دیتا ہے اور حکومت کو بیرونی ادائیگیوں کے قابل بناتا ہے۔
ریاست اگرچہ ان محب وطن شہریوں کو روشن ڈیجیٹل اکاونٹ نادرہ سہولیات اور مخصوص ہاوسنگ اسکیموں جیسی مراعات دینے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن یہ اقدامات ان کی بے لوث قربانیوں کے سامنے انتہائی نا کافی ہیں حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے ان کی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ دینا عدالتوں میں ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا اور ائیرپورٹس........
