Barf Ka Kafan Aur Hukumrano Ki Behissi |
جنوری کی وہ سرد اور سیاہ رات مری کے برفیلے پہاڑوں پر قیامت بن کر ٹوٹی جب آسمان سے گرتی سفید برف معصوم سیاحوں کے لیے کفن بن گئی۔ اس وقت کی تحریک انصاف حکومت کی مجرمانہ غفلت اور سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ مری کے راستوں پر انسانی جانیں سسک رہی تھیں اور حکمران اپنی عیاشیوں اور خواب خرگوش میں مگن تھے۔ وہ مائیں وہ بہنیں اور وہ ننھے بچے جو خوشیاں منانے گئے تھے برف کے بے رحم طوفان میں اپنی گاڑیوں کے اندر ہی منجمد ہو کر رہ گئے۔ انتظامیہ کی نااہلی کا یہ حال تھا کہ ہزاروں گاڑیاں پھنسی ہونے کے باوجود کوئی بچاؤ کا راستہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی برف ہٹانے والی مشینری وقت پر پہنچی۔
معصوم پاکستانی اس امید پر دم توڑ گئے کہ شاید ریاست انہیں بچانے آئے مگر ریاست کے کارندے اور پی ٹی آئی کے وزراء تو اس المناک سانحے کو سیاحت کے فروغ کا نام دے کر اپنی بے حسی کا ثبوت دے رہے تھے۔ بائیس سے زائد قیمتی جانوں کا ضیاع صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ یہ اس وقت کے حکمرانوں کی بے تدبیری اور انسانی جانوں سے بیزاری کا منہ بولتا ثبوت تھا جس نے کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیے تھے۔ مری کی وہ برفیلی سڑکیں آج بھی ان بے گناہ مقتولین کی چیخوں کی گواہی دیتی ہیں جنہیں حکومتی غفلت نے جیتے جی برف میں دفن........