menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rishton Ki Bujhti Hui Aanch

15 0
17.06.2026

رشتوں کی بجھتی ہوئی آنچ

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں رشتے مرتے نہیں، صرف آہستہ آہستہ ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب دروازوں پر تالے کم اور دستکیں زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ جب ایک گھر کی خوشی پورے خاندان کی خوشی سمجھی جاتی تھی اور ایک گھر کے دکھ پر کئی گھروں کی آنکھیں نم ہو جایا کرتی تھیں۔ تب رشتے صرف خونی تعلق نہیں تھے، وہ ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے ہوئے دلوں کا نام تھے۔

پھر نہ جانے کیا ہوا؟ کب انا رشتوں سے بڑی ہوگئی، کب ضد نے محبت کو نگل لیا اور کب خاندانوں کے درمیان خاموش دیواریں کھڑی ہونا شروع ہوگئیں، کسی کو خبر ہی نہ ہوئی۔

آج ایک ہی شجر کے سائے تلے کھڑے لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہیں۔ ایک ہی خون رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی کامیابیوں سے بے چین اور ناکامیوں سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ خاندان اب ایک جسم نہیں رہا، بلکہ کئی حصوں میں بٹا ہوا وجود بن چکا ہے جہاں ہر حصہ دوسرے کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے۔

اصل المیہ یہ نہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ اصل المیہ تو یہ ہے کہ رشتوں میں خلوص کی جگہ مقابلے نے لے لی ہے۔

آج اگر خاندان کا کوئی فرد ترقی کر جائے، عزت پا لے، کاروبار میں کامیاب ہو جائے یا کسی امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کر لے تو مبارکباد کے الفاظ تو ادا کر دیے جاتے ہیں، لیکن بعض دلوں میں حسد کے ننھے ننھے سانپ کروٹیں لینے لگتے ہیں اور اگر وہی شخص کسی دن ٹھوکر کھا جائے، کسی میدان میں ہار جائے یا کسی مشکل میں گرفتار ہو........

© Daily Urdu