Youm e Mazdoor

پسینے سے جو لکھتا ہے زمیں پر اپنی تقدیر

وہی مزدور ہے جو وقت کا سلطان ہوتا ہے

یکم مئی کی صبح تھی شہر کے بڑے ہال میں یومِ مزدور کی تقریب سج چکی تھی اسٹیج پر سفید کپڑوں میں ملبوس معززین بیٹھے تھے اور ہال میں تالیوں کی بازگشت گونج رہی تھی ایک مقرر مائیک پر آیا آواز میں درد بھی تھا اور الفاظ میں انقلاب بھی مگر یہ درد چند لمحوں پر مشتمل تھا ایک روایت پر مبنی تھا مزدور اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

یوم مزدور کا دن تالیاں بجیں، کیمرے چمکے اور نعرے لگے مگر اسی لمحے شہر کے کسی صنعتی علاقے میں ایک مزدور اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر خالی انگلیاں گن رہا تھا۔

یہ پاکستان ہے جہاں یومِ مزدور ایک دن کا جذبہ ہے اور مزدور کی محرومی پورے سال کی حقیقت میں نے ایک مزدور سے پوچھا آج تمہارا دن ہے خوش ہو وہ مسکرایا، وہی مسکراہٹ جو آنکھوں تک نہیں پہنچتی بولا سر دن تو ہمارا ہے مگر مہینہ کسی اور کا ہے تین مہینے سے تنخواہ نہیں ملی آج بھی کام پر جانا ہے ورنہ نوکری بھی چلی جائے گی یہ جملہ کسی ایک........

© Daily Urdu