Super Power Se Sifar Power Tak Ka Safar |
سپر پاور سے صفر پاور تک کا سفر
طاقتور جب اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگے تو اس کے زوال کی کہانی لکھنا شروع ہو جاتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں جھانکیں تو ہر وہ قوت جو اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھ بیٹھی بالآخر مٹی کی دھول میں تحلیل ہوگئی۔ فرعون کے محلات ہوں یا شداد کے باغات، قارون کے خزانوں کی چمک ہو یا کسی سلطنت کی فوجی طاقت، سب کا انجام ایک جیسا رہا عبرت۔ امریکہ بھی کبھی طاقت کا وہ استعارہ تھا جس کے اشارے پر دنیا کی سیاست کروٹ لیتی تھی۔ اس کی معیشت معیار اس کی فوجی قوت مثال اور اس کا بیانیہ جمہوریت کا علمبردار سمجھا جاتا تھا مگر مسئلہ ہمیشہ طاقت نہیں ہوتا مسئلہ طاقت کے استعمال کا ہوتا ہے جب طاقت انصاف کے تابع ہو تو وہ رحمت بنتی ہے اور جب خواہشات کی غلام ہو جائے تو زحمت یہی وہ موڑ تھا جہاں سے امریکہ کا زوال شروع ہوا۔
دنیا کو انسانی حقوق کا سبق دینے والا ملک خود انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث پایا گیا۔ عراق کی تباہی افغانستان کی بربادی فلسطین میں انسانوں پر ظلم یہ سب وہ داغ ہیں جو کسی سپر پاور کے چہرے پر اچھے نہیں لگتے۔ طاقت کے نشے میں جب کمزور اقوام کے وسائل پر قبضے کی کوشش کی گئی، جب جنگوں کو امن کا نام دے کر مسلط کیا گیا تو دنیا نے پہلی بار سوال اٹھانا شروع کیا کیا یہ وہی امریکہ ہے جو انصاف کا علمبردار تھا اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب انسانیت کا دعویٰ رکھنے والے ہاتھ........