Rah e Haq Ke Shaheedon Ki Dastan (1) |
راہ حق کے شہیدوں کی داستاں (1)
تاریخ کے اوراق میں بے شمار جنگیں، فتوحات، سلطنتیں اور بادشاہ گزرے ہیں کسی نے تلوار کے زور پر زمینیں فتح کیں کسی نے خزانے لوٹے، کسی نے محلات تعمیر کیے اور کسی نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے انسانوں کے ضمیر خرید لیے مگر وقت کا سب سے بے رحم قاضی یعنی تاریخ آخرکار یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون فاتح تھا اور کون شکست خوردہ۔ یہی وجہ ہے کہ جن تختوں پر کبھی دنیا جھکتی تھی آج ان کے آثار بھی مٹ چکے ہیں لیکن کربلا کی تپتی ریت پر بہنے والا خون آج بھی کروڑوں انسانوں کے ضمیر کو زندہ کرتا ہے۔
یہ عجیب داستان ہے کہ یہاں تلواریں ایک طرف تھیں اور حق دوسری طرف لشکر ایک طرف تھا اور کردار دوسری طرف اقتدار ایک طرف تھا اور صداقت دوسری طرف بظاہر فتح یزید کے لشکر کی ہوئی۔ مگر تاریخ نے اس کے نام کو ظلم جبر اور استبداد کی علامت بنا دیا جبکہ امام حسینؑ اور ان کے جان نثار شہداء کو عزت، آزادی، وفا اور حق کی دائمی علامت قرار دیا۔ یہی کربلا کا وہ معجزہ ہے جسے نہ وقت مٹا سکا نہ سلطنتیں دبا سکیں اور نہ ہی طاقت کی چمک اس کے نور کو مدھم کر سکی۔
کربلا صرف ایک معرکہ نہیں تھا بلکہ انسانی ضمیر کا سب سے بڑا امتحان تھا یہ چند گھنٹوں کی جنگ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک پیغام تھا، جو ہر اس انسان سے مخاطب ہے جس کے سامنے کبھی حق اور باطل میں سے کسی ایک کا انتخاب آ کھڑا ہو اس میدان میں صرف بہتر جانثاروں نے اپنی جانیں قربان نہیں کیں بلکہ حق نے ہمیشہ کے لیے باطل سے اپنا راستہ جدا کر لیا........