menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khamoshi Bhi Jurm Hai

15 0
tuesday

طاقت کی ایک نفسیات ہوتی ہے جب اسے کوئی روکنے والا نہ رہے تو وہ خود کو قانون سمجھنے لگتی ہے اور جب معاشرہ خوف کی چادر اوڑھ لے تو ظلم معمول بن جاتا ہے۔ تاریخ کی ہر آمریت، ہر جابر حکومت اور ہر بے لگام طاقت کا انجام یہی رہا ہے اسلئے کہتے ہیں حد سے زیادہ خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ پاکستان کا المیہ صرف یہ نہیں کہ یہاں بحران بہت ہیں اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں سچ بولنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے دوسرے لفظوں میں سچ بولنے والوں کی زبان بند کی جارہی ہے بہت سے لوگ سچ بولنے کی وجہ سے جیل کی سلاخوں میں ہیں۔

بہت سے لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بہت سے لوگ اپنی جان تک کو گنوا بیٹھے ہیں، یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے بڑی تیزی سے چل رہا ہے سیاست دان اپنے مفاد میں مصروف ہیں بہت سے دانشور مصلحت کی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں اور کئی ایسے لوگ جو معاشرے کا ضمیر کہلاتے تھے خاموش تماشائی بن چکے ہیں مگر کچھ فنکاروں نے اس ظلم پر لب کشائی کرکے اپنا حق ادا کردیا ہے اپنا فرض پورا کیا ہے خدا کے سامنے اپنے آپ کو مجرموں کی لسٹ سے نکال دیا ہے۔ اسی لیے جب کوئی فنکار ظلم، ناانصافی یا انسانی المیے پر زبان کھولتا ہے تو یہ محض ایک بیان........

© Daily Urdu