Ghulam Mulkon Ka Ittehad Kese Mumkin Ho? |
مسلم دنیا میں اتحاد کی بات کچھ اس طرح کی جاتی ہے جیسے کسی گہرے زخم پر خوشبو لگا دی جائے مہک تو آ جاتی ہے، مگر زخم وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ ہر سربراہی اجلاس میں امتِ مسلمہ کی وحدت پر لمبی تقریریں ہوتی ہیں، ہر کیمرہ اینگل پر درد ٹپکتا ہے، مگر جیسے ہی اجلاس ختم ہوتا ہے اتحاد بھی فائلوں میں بند ہو جاتا ہے۔ اصل مسئلہ شاید اتحاد کی خواہش کا نہیں آزادی کی سکت کا ہے جس ملک کا فوجی سربراہ کی نشاندہی واشنگٹن سے آتی ہو جس کی معیشت کا آکسیجن ماسک آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہو جس کے بجٹ کی زبان ڈالر بولتی ہو وہ ملک قوم کو چاہے جتنی جھوٹی تسلیاں دے لے عملی طور پر وہ غلامی کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
ایسے ممالک کے سربراہ قوم کو یہ تو یقین دلا سکتے ہیں کہ ہم باوقار ہیں ہم خودمختار ہیں، ہم فیصلہ کر رہے ہیں مگر اصل فیصلے کہیں اور لکھے جا رہے ہوتے ہیں یہ وہی جھوٹی تسلیاں ہیں جن سے قوم وقتی طور پر بہل جاتی ہے مگر تاریخ کبھی بہلتی نہیں۔
آج عالمِ اسلام پچاس سے زائد ملکوں پر مشتمل ہے مگر اجتماعی حالت یہ........