Wazir e Aala Yadti Roken
وزير اعلٰی زیادتی روکیں
جناب وزير اعلٰی آپ ایک سیاسی خاندان کی چشم و چراغ ہیں اور آپ کے والد پاکستان کے سب سے مشہور سیاسی لیڈر اور تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص ہیں۔ آپ کو تو عوام کی پریشانیوں کا ادراک بھی ہونا چاہیئے۔ اس وقت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں حالات بڑے گھمبیر ہیں لیکن آپ کو سب اچھا ہی دکھایا جاتا ہے جس کے پیچھے محکمہ صحت کی بیوروکریسی کا بڑا ہاتھ ہے۔
تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے اعلانات ہوتے ہیں اور بڑے بڑے بینر آویزاں ہیں لیکن یہ سب دھوکہ ہے اور یہ دھوکہ ناصرف مریضوں کے ساتھ ہے بلکہ آپ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچارہا ہے۔ میں پہلے بھی ان حقائق کی طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کے نام پر بڑی کرپشن ہورہی ہے اور ساتھ ہی ادویات نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں میں مرض کے علاج کی بجائے بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔
چند دن پہلے ایک دوست پروسٹیٹ کے مرض میں جنرل ہسپتال آؤٹ ڈور گیا اور دو گھنٹے کی تگ و دو کے بعد اسے جو ادویات لکھی گئی تھیں وہ ہسپتال میں دستیاب ہی نہیں تھیں۔ اسے ٹیمسولوسن اور موکسی فلوکساسن تفویض گئی تھی اور ایک لمبی قطار میں انتظار کے بعد اسے پیراسٹامول شربت اور معدے کا کیپسول تھمادیا گیا اور اسے دی گئی آؤٹ ڈور کی سلپ فارمیسی پر جمع کرلی گئی۔ اس طرح اس مریض کو نہ تو تکلیف کے مطابق دوا ملی اور نہ ہی لکھی گئی دوا کا نسخہ ملا۔ وہ مریض تکلیف میں مبتلا رہا اور شام کو پرائیویٹ گردہ مثانہ کے ڈاکٹر کے پاس چلا گیا جس نے ہسپتال سے ملنے والی ادویات کو دیکھا اور کہا کہ وہ خود بھی سرکاری ہسپتال میں نوکری کرتا ہے اور ان ہسپتالوں میں نہ تو ڈاکٹروں کو دوا لکھنے کی اجازت ہے اور متعلقہ دوا نہ ملنے پر انتظامیہ سے شکایت کرنے کی اجازت بھی........
