Awam Ka Tail |
بڑی منتوں مرادوں کے ساتھ وزیر اعظم نے میڈیا پر آکر حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں پورے بارہ روپے کمی کردی جبکہ حقیقت میں ابھی بھی جنگی اثرات کے نام پر پٹرول کی قیمت میں سو روپے اضافہ ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نے تو بین الاقوامی راہنمائی کی لاج بھی نہ رکھی اور عوام کے لئے ریلیف تو درکنار انھیں مارکیٹ پٹرول کی قیمت کی کمی کے ثمرات بھی نہیں پہنچنے دئیے ہیں۔ ابھی بھی حکومت سو روپے سے زیادہ لیوی سمیت درجن بھر ٹیکس پٹرول سے وصول کررہی ہے اور ان ٹیکسوں کا عوام کو کوئی فائیدہ بھی نہیں ہوتا ہے سوائے کہ اشرافیہ اور مافیاز کی جیبیں بھری جاتی ہیں کیونکہ پٹرول کی کمائی پر حکمرانوں کے خزانے بھریں گے تو ساتھ ساتھ ساری ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو جائے گا جو تیل کی قیمتیں آدھی ہونے پر بھی کم نہیں ہوگا۔
اس وقت دودھ، گھی، چائے، پھلوں، سبزیوں، گوشت، دالوں اور ادویات تک کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں لیکن یہ قیمتیں اب شاید کبھی کم نہیں ہوں گی اور اس طرح حکمران ان تمام منافع خوروں کی سہولت کاری کے لئے سال دو سال بعد ایک دو بار ایسا جھٹکا ضرور لگاتی ہے کہ کاروباری افراد کی موجیں لگ جاتی ہیں۔ ابھی بھی اطلاعات ہیں کہ پٹرول کی مد میں آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کی دیہاڑی لگائی ہے اور اس کے بعد، ایل پی جی مافیا نے بھی اپنا کام دکھا دیا ہےاور سیمنٹ، اینٹ، سریا اور بجلی سمیت ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے لیکن حکمرانوں کو ان ساری چیزوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔
حقیقت میں یہ حکمران ہیں بھی نہیں بلکہ ایک انتظام........