100 Arab Dollar Kahan Gaye? |
سو ارب ڈالر کہاں گئے؟
جب انصاف کسی معاشرے سے اٹھ جاتا ہے تو پھر وہاں سے پیسہ، خوشحالی اور حب الوطنی بھی ختم ہونے لگتی ہے۔ سرمایہ دار کے لئے اس کا سرمایہ اس کے اپنے خاندان سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے اس لئے وہ سرمایہ وہیں پر لگاتا ہے جہاں اس کے سرمائے کو تحفظ حاصل ہو۔ وزیر داخلہ نے گزشتہ روز کراچی کے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے تین سالوں میں سو ارب ڈالر ملک سے باہر جا چکے ہیں اور انھوں نے تاجروں سے درخواست کی کہ آپ اپنے سرمائے کا محض بیس سے تیس فیصد حصہ بھی ملک کے اندر واپس لے آئیں تو ملک آئی ایم ایف کے تسلط سے باہر نکل آئے گا۔
وزیر داخلہ نے درخواست کے ساتھ ساتھ دھمکی بھی دی کہ اگر ان کی نصیحت پر عمل نہ ہوا تو ریاست چند لوگوں کو اٹھائے گی اور پھر سب کچھ ملک کے اندر واپس آ جائے گا۔ سیاست دانوں کا وطیرہ ہی یہ ہے کہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو انھیں اپنے تمام کام صحیح دکھائی دیتے ہیں جبکہ حکومت پر تنقید کرنے والے یا اپنا حق مانگنے والے غدار اور ملک دشمن کہلاتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ سو ارب ڈالر باہر بھیجنے میں سب سے بڑا کردار خود حکمرانوں کا ہے جن کی پالیسیوں نے ملک کے اندر معیشت کا گلا گھونٹ دیا ہے اور وطن عزیز میں آج انڈسٹری لگانا ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ پرویز مشرف کے دور کا اختتام ہوا تو ملک میں بدترین لوڈ شیڈنگ جنم لے چکی تھی اور اس کا آسان حل یہ نکالا گیا کہ پرائیویٹ پاور پلانٹس سے بجلی کے معاہدے کرکے وقتی طور پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو کم کردیا گیا اور یہ وہ سیاسی فیصلہ تھا جس نے بعد میں ملکی معیشت کی چولیں ہلا دیں اور آج تک قوم اس زخم سے باہر نہیں آ سکی ہے۔ یہ سارے منصوبے اس قدر غیر منطقی ہیں کہ کسی بھی آزاد اور محب وطن حکومت کوایسے معاہدوں سے گریز ہی کرنا چاہئیے تھا۔ لیکن جب تک ان پاور پلانٹس نے کام شروع کیا تو بڑے پیمانے پر یا تو انڈسٹری بند ہو چکی تھی اور یا پھر ملک سے منتقل ہو چکی تھی۔
اس دور میں بڑے بڑے ٹیکسٹائل کے کارخانوں کو تالے لگ گئے اور جو باقی بچے انہوں نے جیسے تیسے کرکے اپنے ڈیزل اور فرنس آئل کے پلانٹ لگالئیے کیونکہ اکثر سرمایہ دار سمجھتے تھے کہ حکومت سے مہنگی بجلی خریدنے، بلاوجہ کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنے اور سرکاری محکموں کی مداخلت سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اپنی بجلی بنائی جائے چاہے وہ مہنگی ہی کیوں نہ ہو۔ حکومت نے انڈسٹری کے لئے جو بائیس ہزار میگا واٹ بجلی کا انتظام کیا تھا اس میں سے صرف تین ہزار میگا واٹ بجلی آج استعمال ہو رہی ہے لیکن حکومت ان پرائیویٹ پاور پلانٹس کو بغیر بجلی کی ترسیل کے ڈالروں میں ادائیگیاں کررہی ہے۔
حکومت کی غلط پالیسیوں نے آج ملک کو توانائی کے شکنجے میں جکڑ دیا ہے جس کی وجہ سے بجلی کی کیپسٹی ہونے کے باوجود ہم لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی سہتے ہیں اور ساتھ مفت میں بجلی کے بل بھی دیتے ہیں۔ دوسرا بڑا فراڈ قوم کے ساتھ اس وقت ہوا جب قطر کے ساتھ ایل این جی کے معاہدے کئے گئے تھے تاکہ انڈسٹری اور بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو گیس فراہم کرکے بجلی پیدا کی جا سکے اور ظلم یہ کہ ایل این جی کارگو کے معاہدے تو ہو گئے لیکن کثیر مدتی ان معاہدوں کے کرنے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ یہ گیس تو اب ہمارے استعمال کی نہیں رہی ہے کیونکہ ملک صنعتی بحران کا شکار ہے اور اب حالت یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت قطر کو پیمنٹ کرنا ہے اور گیس چاہے نہ بھی لیں اور اس طرح پرائیویٹ پاور پلانٹس کی کیپسٹی پیمنٹ کے بعد یہ دوسرا بڑا عذاب قوم پر مسلط ہوگیا جس کے بعد بجلی کی بے تحاشہ قیمتوں کے بعد گیس کی قیمتیں بھی بڑھنے لگیں اور ملکی سرمایہ توانائی کے شعبے کے بوجھ تلے دفن ہونے لگا۔
توانائی وہ شعبہ ہے جس نے تمام انڈسٹری اور کاروبار کو چلانا تھا لیکن یہاں حالت یہ ہوگئی کہ یہی توانائی کا سیکٹر پوری معیشت پر بوجھ بن گیا۔ مہنگی توانائی نے پیداواری اور کاروباری لاگت میں تیزی سے اضافہ کیا اور آئے روز بڑھنے والی بجلی اور گیس کی قیمتوں نے مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا رحجان پیدا کیا جس کی وجہ سے ملکی برآمدات بری طرح سے متاثر ہوئیں جبکہ خام مال سمیت ہیوی مشینری کی برآمد پر ڈالر کی بڑھتی قیمتوں نے اثرات مرتب کئے جس سے درآمدی بجٹ میں بڑا اضافہ ہوا اور برآمدات کم ہوتی چلی گئیں اور ملک میں تجارتی خسارہ بڑھنے لگا جس کا مستقل حل نکالنے کی بجائے حکمرانوں نے اپنے خرچے چلانے کے لئے پھر بجلی اور گیس کی قیمتوں کو بڑھانے کی پالیسی قائم رکھی اور آج حالت یہ ہے کہ لوگوں نے سولرائزیشن کے ذریعہ حکومتی بجلی کا استعمال معطل کردیا اور اب حکومت کے پاس وافر بجلی موجود ہے لیکن خریدار کوئی نہیں جبکہ حکومتی خرچے اپنی جگہ بڑھتے گئے تو حکمرانوں نے انڈسٹری کی تباہی کے بعد ٹریڈ کے کاروبار کو نشانہ بنانا شروع کردیا اور پٹرول پر ہیوی لیوی سمیت درجنوں ٹیکس مسلط کرکے سرکاری مشینری کی نوازشات جاری رکھیں اور اب حالت یہ ہے کہ ملک میں منافع کی شرح کم ہوتے ہوتے ختم ہونے لگی ہے جس سے قیمتوں میں اضافہ اور ڈیمانڈ میں کمی کا رحجان ہے اور پھر حکمرانوں اور سرکاری محکموں کی غنڈی گردی اور دھمکیوں نے سرمایہ کاروں کو مجبور کردیا کہ وہ اپنا سرمایہ محفوظ اور منافع بخش کاروبار میں منتقل کرنے کے لئے ملک سے باہر لے جائیں۔
یہی نہیں بلکہ سرکاری بیوروکریسی، سیاستدانوں، ججوں اور جرنیلوں نے بھی اپنا سرمایہ جب محفوظ بنانے کے لئے ملک سے باہر منتقل کر نا شروع کیا تو سرمایہ داروں کو کھلا پیغام مل گیا کہ جب ملک کے کرتا دھرتاؤں کو اس نظام پر اعتماد نہیں ہے جس میں دھائیوں ان افراد نے ناانصافی اور کرپشن کے بیج بوئے ہیں تو پھر محنت اور ایمانداری سے کمائے گئے سرمائے کو کوئی کیوں ملک کے اندر انویسٹ کرے گا۔
پچھلے ستر سالوں سے اس نظام نے نوچ نوچ کر مزدور، چھوٹے کاروباری افراد، ریڑھی بانوں اور چھوٹے صنعتکاروں کو لوٹ کر ایک خاص طبقے کو پالا ہے۔ عام آدمی کو اس کی اوقات سے بھی زیادہ مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور مہنگا پٹرول بیچ کر چند لاکھ افراد کو مال مفت کی طرح بانٹا ہے اور پھر انھیں افراد نے کرپشن کے دروازے کھول کر اسی پسے ہوئے طبقے کی باقی ماندہ کمائیوں کو بھی چھیننا شروع کردیا اور ان مراعات یافتہ بھیڑیوں کو ریٹائرمنٹ پر بھی لاکھوں کی مراعات اور پنشن جاری رکھی گئی۔
اس ملک نے دن رات محنت مشقت کرکے ملکی معیشت کو سنبھالا دینے والوں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر کرپٹ اور خرام خوروں کو پالا ہے تبھی تو پیسہ ملک سے باہر گیا ہے اور ساتھ ساتھ تربیت یافتہ اور پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھی ملک سے کوچ کرنے میں ہی عافیت سمجھی ہے۔ ہم دہن کے سرمائے کے ساتھ ساتھ ذہنوں کے سرمائے کو بھی ملک سے بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں اور پھر ڈھونڈتے ہیں کہ سو ارب ڈالر کہاں چلے گئے۔