Seerat e Tayyaba Aik Alag Zaviye Se
سیرت طیبہ ایک الگ زاویے سے
انسانی زندگی خوشیوں اور دکھوں کا مرقع۔ خوشیاں عارضی اور غم دائمی۔ دکھ میں وہ توانائی و تاثیر جو انسان کو یکسر بدل دیتا ہے۔ غم کی سعادت کہ یہ عموماً بندے کو خالق سے جوڑنے کا سبب بھی۔ ہم نے غم کے الم کو سہنے کا سلیقہ حضور ﷺ کی سیرت طیبہ سے سیکھا۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت محض فتوحات، معجزات اور کامیابیوں کی داستان نہیں۔ یہ ایک ایسے انسانِ کامل کی زندگی بھی ہے جس نے یتیمی دیکھی، اپنے محبوب لوگوں کو کھویا۔ اپنوں کی مخالفت برداشت کی، تہمتوں کا سامنا کیا، جسمانی و قلبی اذیتیں جھیلیں اور اولاد کے غم برداشت کیے، مگر ہر آزمائش میں صبر، رحمت اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھا۔
حضور نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت عامُ الفیل، ربیع الاول، پیر کے روز مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ مشہور قول 12 ربیع الاول کا ہے، جبکہ بعض محققین کے نزدیک 9 ربیع الاول 571ء (20 اپریل) زیادہ راجح ہے۔
1۔ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد حضرت عبداللہ رحلت فرما چکے تھے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو یاد دلایا: "کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا، پھر پناہ دی؟"(سورۃ الضحیٰ، 93: 6)
ایک ایسا بچہ جس نے دنیا میں آنکھ کھولی تو سر سے باپ کا سایہ پہلے ہی اٹھ چکا تھا۔ یہ وہ رہبرِ کامل جنہیں آگے چل کر انسانیت کا عظیم رہنما بننا تھا۔
2۔ والدہ حضرت آمنہؓ کی وفات۔
جب حضور اکرم ﷺ کی عمر چھ سال تھی تو حضرت آمنہ بنتِ وہبؓ انہیں، اپنے ننھیال سے ملوانے مدینہ لے گئیں۔ واپسی کے سفر میں ابواء کے مقام پر بی بی آمنہ کی طبیعت خراب ہوئی اور وہیں آپ کا انتقال ہوا۔ چھ سال کا معصوم بچہ ایک اجنبی مقام پر تن تنہا اپنے عزیز ترین رشتے سے محروم ہوگیا۔ یہ تصور ہی دل کو تڑپا جاتا ہے کہ جس بچے نے چھ سال کی عمر میں اپنی ماں کو ابواء کی مٹی میں سپرد ہوتے دیکھا، وہی بچہ برسوں بعد اسی قبر پر کھڑا ہو کر رو رہا تھا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ خود بھی روئے اور جو لوگ آپ کے اردگرد تھے انھیں بھی رلا دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: "میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں اپنی والدہ کے لیے بخشش کی دعا کروں تو مجھے اجازت نہ ملی، پھر میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں تو مجھے اجازت مل گئی۔ لہٰذا تم (بھی) قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔ صحیح مسلم حدیث نمبر 2259
3۔ والدہ کے انتقال کے بعد آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلبؓ نے آپ ﷺ کی کفالت کی۔ یتیم پوتا دادا کی آنکھوں کا نور تھا پر تقریباً دو سال بعد، جب آپ ﷺ کی عمر آٹھ برس کے قریب تھی، دادا بھی وفات پا گئے۔
اب کفالت چچا، ابو طالب کے ذمے تھی۔ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنی اولاد سے زیادہ عزیز رکھا اور اپنی آخری سانس تک آپﷺ کی ڈھال بنے رہے مگر ابو طالب کا ایمان نہ لانا ہادی برحق کا سب سے بڑا دکھ۔
صحیح مسلم میں حضرت سعید بن مسیبؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب سے فرمایا کہ میرے چچا! صرف اتنا کہہ دیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اللہ کے ہاں آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ مگر ابو جہل اور دوسرے لوگوں کے دباؤ میں ابو طالب نے اپنے آبائی مذہب پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا اور کلمہ نہ پڑھا۔
رسول اللہ ﷺ نے آخری لمحے تک کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہوئے۔ صحیح مسلم، حدیث 24a
یہ واقعہ قرآن کی اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے: "بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے"۔ (القصص: 56)
4: نبوت کے بعد قریش کی مخالفت بڑھتی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلایا گیا، طعنے دیے گئے اور دعوتِ اسلام روکنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے۔
یہاں قرآن خود رسول اللہ ﷺ کے قلبی رنج کی طرف اشارہ کرتا ہے: "ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے"۔ الحجر: 97
5: قریش کی مخالف یہاں تک بڑھی کہ حضور ﷺ کو اپنے........
