menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dard Bhi Aisa Waisa

24 0
04.08.2026

میں فوڈ کورٹ میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھی ابھی اپنا لنچ باکس کھول ہی رہی تھی کہ مجھے روپ کور دور سے دوڑتی اور ہاتھ ہلاتی نظر آئی۔

"ہائی کیا حال ہے! سب کشل، ٹھیک ٹھاک"۔

میں نے اسے خیر مقدمی مسکراہٹ سے نوازتے ہوئے پوچھا۔

"ہاں گرو کی جی کرپا سے سب ٹھیک ہے اور سب سے بڑی خوشخبری کہ مجھے باقی کے دو دن بھی گھر سے کام کرنے کی اجازت مل گئی ہے"۔

روپ نے تیز تیز سانسوں پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کے دوران بتایا۔

ارے واہ! یہ تو بہت ہی اچھی خبر ہے۔ اس سے تو تم لوگوں کا بہت بڑا مسئلہ حل ہوگیا۔

میں نے بھر پور مسرت کا اظہار کیا۔

ہاں اب میں یکسوئی سے کام کر سکوں گی ورنہ آدھا دل تو گھر ہی میں اٹکا رہتا تھا۔

تمہاری بڑی بہن نے تو اسکول کی جاب چھوڑ دی ہے ناں؟

میں نے روپ کور سے کنفرم کیا۔

ہاں نا! ہم تینوں گھر سے نکل جاتے تھے تو ممی جی اور ہم سب کے لیے بہت مشکل ہو جاتی تھی۔ ہمیں ممی جی کو باندھ کر آنا پڑتا تھا۔ اب کلونتے نے اپنی ٹیچنگ چھوڑ دی ہے سو وہ گھر دیکھ لے گی اور میں دفتر۔ پاپا جی کی تو سرکاری نوکری ہے اور پھر ریٹائرمنٹ بھی قریب۔ ممی جی کا علاج بھی تو پاپا جی کی نوکری سے ہورہا ہے ناں۔ میرا انشورنس تو ممی جی کو کور کرتا ہی نہیں۔

روپ کور نے اپنی فطری سادگی میں دس دفعہ کی سنائی ہوئی روداد پھر سے دہرائی۔

روپ دو سال پہلے سنکور (Suncor) کمپنی میں میری انڈر ٹرینی تھی۔ انجینیرنگ مکمل کرنے کے بعد حسنِ اتفاق کہ اس کی میرے ہی ڈپارٹمنٹ میں تقرری ہوئی۔ یہ لوگ کوئی بیس اکیس سال پہلے امرتسر سے یہاں کینیڈا آئے تھے۔ کلونت کور شاید سات اور روپ کور غالباً پانج برس کی تھی۔ یہیں تعلیم حاصل کی۔ کلونت نے ایجوکیشن میں ڈگری لی اور روپ نے پیڑولیم انجینئرنگ کی۔ پاپا جی اس اعتبار سے لکی رہے کے کینیڈا آتے ہی "کنیڈا پوسٹ" میں نوکری لگ گئی۔ بچیاں چھوٹی تھیں سو نئے ماحول میں آسانی سے رچ بس گئیں۔ پاپا جی نے اپنے من کی مانی تھی اس لیے وہ بھی چین کی بنسی بجاتے رہے۔ اس ساری اکھاڑ پچھاڑ میں جو کملائی وہ تھیں ممی جی یعنی دلجیت کور۔ سیدھی سادی دلجیت کور کے لیے کلچرل شاک گویا........

© Daily Urdu