menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Teen Anmol Tohfay

40 0
16.09.2026

انڈیانا میں خزاں کی آمد آمد ہے۔ پرسوں دروازے پر دستک ہوئی اور جب جا کر دیکھا تو ایک مہذب اور تہذیب یافتہ انسان کچھ کتابچے ہاتھ میں لئیے اکیلے کھڑے تھے۔ میں نے شاید کچھ اچنبھے سے دیکھا تو اپنا تعارف کروایا اور کہنے لگے کہ میں شہر کے میئر کا امیدوار ہوں۔ اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تعارف مجھے دے ڈالا اور ہم چند ساعتوں تک گفتگو کرتے رہے۔ انہوں نے ہمہ پرسی (ووٹنگ) کی کوئی درخواست نہیں کی لیکن میں نے ضرور جواب دیا اور اپنے گھر سے سب کا وعدہ کیا۔ کچھ حیران ہو کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھ سے سوال نہیں پُوچھے۔ میرا جواب بڑا واضح تھا۔ آپ میرے گھر آئے اور مجھ سے ملے، آپ کا لائحہ عمل آپ کی سیاسی جماعت کی وجہ سے میں جانتا ہوں لیکن جو میں نہیں جانتا تھا وہ ان کہی داستان کی صورت میں آپ کی اخلاقیات کہہ گئیں۔ شُستہ لب و لہجہ، گھر پر آنے اور ملنے کی کوشش، نفیس گفتگو اور قابل رسائی ہونا اور یہ کافی ہے۔

میرؔ سکوت سُن، مِری گویائی پر نہ جا آنکھوں کے حرف پڑھ، غزل آرائی پر نہ جا

1990 کی دہائی تھی اور میں اپنے کچھ امریکن بورڈ کے امتحان دے چُکا تھا اور شاید ایک آدھ رہتا بھی تھا البتہ امریکہ جانے کا انتظار کر رہا تھا۔ اس دوران نیشنل اسپتال ڈیفنس میں بحثیت رجسٹرار کچھ کام کر رہا تھا۔ اس زمانے میں بھی ہمیں بیٹھنے کو کمرہ نہیں ملا تھا یا وہاں کہئیے کہ کمرہ تو تھا لیکن واپس لے لیا گیا اور یوں سمجھیے بس راہ داری کے بالکل ساتھ چند کرسیاں لگا دی گئی تھیں اور ہم سب بشمول خواتین ڈاکٹروں کے وہیں بیٹھتے تھے اور مجھے شرمساری سے کہنا پڑتا ہے کہ انسانی اور شخصی احترام کی کسی قسم کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی تھی۔ ایک خاتون نرس یہ بھی کہنے آئیں کہ سُنا ہے آپ سے آپ کا کمرہ لے لیا گیا ہے لیکن قہر درویش برجان درویش معاملہ وہی رہا۔ یہ بنیادی اخلاقیات کا فقدان تھا۔ واپس جانے کی کبھی خواہش نہیں ہوئی۔

ہر ناکام معاشرہ اپنے اندر سے سب کو نیم انسان subhumans تصور کرتا ہے۔........

© Daily Urdu