menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aap Ke Kahay Alfaz Aap Ki Tarbiyat Ka Pata Dete Hain

25 0
18.10.2026

آپ کے کہے الفاظ آپ کی تربیت کا پرتہ دیتے ہیں

جن دنوں میں تیاری کر رہا تھا اور آرام سے پڑھنے کے لئیے فارغ وقت میں سویرے ہی PGMI کی لائبریری جو اُن دنوں میں برڈووڈ روڈ پر تھی وہاں چلا جاتا۔ یہی وہ دن تھے جب میرا پہلا بیٹا پیدا ہوا۔ ایک دن نوکری کے دن پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پہنچا تو میرے ایک عزیز جو ایک بہت بڑے عہدے پر کام کر رہے تھے وہ دکھائی دئیے۔ نوجوانی کے دنوں میں چند ایک بار اُن سے راہبری اور نصیحت لینے کی کوشش کی تھی اور وہ مددگار ثابت ہوئے تھے۔

اُس دن شاید اچھے موڈ میں نہیں ہوں گے اس لئیے مجھے دیکھتے ہی سب کے سامنے لتاڑنا شروع کر دیا۔ کہنے لگے کہ یہ کیا کام شروع کر دیا ہے اور بچوں کے ساتھ کیسے پڑھو گے۔ درست لفظ لکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ تیز آواز میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کہہ گئے۔ سر جھُکا کر سب سنا اور جُھکی ہوئی گردن کے ساتھ کمرے سے باہر آگئے۔ تیس بتیس سال بعد بھی اُن کے لہجے کی کڑواہٹ یاد ہے۔ ان سرمئی بالوں کے ساتھ یہ بتاتے ہوئے بھی حجاب آتا ہے کہ امتحان کس جتن اور کیسی مشکلات کے ساتھ دئیے تھے۔ جب امتحان پاس ہو گئے اور امریکی ویزے کیلئے گئے تو پہلی مرتبہ میں تو انکار ہوگیا۔ سارے خاندان میں بات پھیل گئی اور بھائی صاحب دوبارہ ملے۔ اس مرتبہ قہقہے مار کر ہنستے جاتے تھے اور استہزائیہ انداز میں کہتے جاتے تھے کہ کیا ہوا سُنا ہے تمہارا جہاز نہیں اُڑا۔ موسم ٹھیک نہیں تھا۔ بہت تکلیف تو ہوئی لیکن قہر درویش برجان درویش۔ خون کے گھونٹ پی کر خاموشی اختیار کی۔ برسوں گزر گئے لیکن آج بھی اُن کا مذاق اڑاتا ہوا چہرہ اور وہ لمحہ جیسے جامد ہو کر برچھی کی طرح دل........

© Daily Urdu