menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aaiye Bachon Ki Parwarish Ke Aglay Hissay Ko Dekhain

45 0
26.08.2026

آئیے بچوں کی پرورش کے اگلے حصے کو دیکھیں

یہ نوجوانی کے دنوں اور 1984 کے پُرفسوں گورنمنٹ کالج لاہور کے دنوں کا ذکر ہے اور تب تک مجھے یقین ہو چُکا تھا کہ میڈیکل کالج میں داخلہ تو خواب و خیال میں بھی نہیں ہونے لگا لہذا مجھے ایم بی اے، سی اے یا پھر سی ایس ایس کا سوچنا چاہئیے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لے ڈالا اور مضامین رکھے، معاشیات، شماریات اور فارسی۔

لاہور کا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) برصغیر کا وہ تاریخی تعلیمی ادارہ ہے جس کے فارغ التحصیل طلبہ اور اساتذہ نے دو نوبل انعام حاصل کیے اور اس کے طلباء نے دنیا بھر میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

اب ہمارا شماریات یعنی سٹیٹسٹکس کا سہ ماہی امتحان شروع ہوا اور میں نے وہ کلاس لی تھی جس میں وہ ذہین و فطین لڑکے تھے جو پہلے ہی دو سال شماریات پڑھ چُکے تھے۔ ہانپتے کانپتے پرچہ حل کیا اور استاد گرامی کے ہاتھ میں دینے سے پہلے ایک مرتبہ یا دو تین مرتبہ نظر دوڑائی اور خیال ہوا کہ ایک نقطے کی کمی ہے اور شماریات تو کھیل ہی نقطوں کا تھا۔ بہت اندازے سے نقطہ جمایا اور اپنا پرچہ استاد محترم کے حوالے کرکے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ میں ہائی اسکول میں اچھا طالبعلم تھا تو براہ مہربانی اپنے خیالات بدل لیجئیے۔

چند دن بعد شماریات کی کلاس میں رزلٹ اناؤنس ہونے لگا اور سب جغادریوں کے 25 میں سے 23 یا 24 نمبر آ رہے تھے۔ میرا رول نمبر پُکارا اور جب میں کھڑا ہواتو دوبارہ کہنے لگے کہ یہ رول نمبر آپ کا ہے اور میرے اثبات پر جواب دینے پر کہنے لگے کہ ان کے 25/25 نمبر ہیں اور انہوں نے پہلی پوزیشن لی ہے۔ باقی طالبعلموں سے موازنہ کرتے ہوئے اسی نقطے کی جانب اشارہ کیا اور کہنے لگے کہ کسی اور نے یہ نقطہ نہیں لگایا

ہم دُعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم بنا دیا

کچھ سال گزر........

© Daily Urdu