Namoos e Risalat Ki Pukar Aur Kubar Sahaba Ki Khamosh Baseerat

تاریخ کے طالب علم کے طور پر جب میں ان اوراق کو الٹتا ہوں جو نبی کریمﷺ کی وفات کے فوراً بعد کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، تو ایک سوال میری روح کو بے چین کر دیتا ہے۔ وہ ہستیاں جن کی پوری زندگی عشقِ رسولﷺ کا استعارہ تھی، وہ کبار صحابہ جو سائے کی طرح نبوت کے ساتھ رہے، یمامہ جیسے فیصلہ کن معرکے میں صفِ اول میں کیوں دکھائی نہیں دیتے؟ وہ معرکہ جو براہِ راست ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کے تحفظ کی جنگ تھی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ عشرہ مبشرہ اور کبار صحابہ اس پکار پر خاموش رہے ہوں؟

جب میں نے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے تاریخ کے دبیز پردوں کو ہٹایا، تو حقائق کے اوراق خود بخود اپنے راز اگلنے لگے اور ایک ایسی عظیم الشان اسٹریٹجی سامنے آئی جس نے اسلام کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ یہ کوئی خاموشی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی مدبرانہ اسٹریٹجی تھی جس پر خلافتِ راشدہ کی بنیادیں کھڑی تھیں۔ خلیفہ وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ بھاری ذمہ داری بانٹ دی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ اس وقت مدینہ میں بیٹھ کر ان گیارہ (11) مہمات کی نگرانی کر رہے تھے جو پورے جزیرہ نما عرب میں فتنہ ارتداد کو کچلنے کے لیے بھیجی گئی........

© Daily Urdu