Khatarnak Raston Ka Wo Hoknak Safar
خطرناک راستوں کا وہ ہولناک سفر
حال ہی میں بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی ایک دل دہلا دینے والی خبر نے روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر، علی مرتضیٰ جمیل کا ہے جو اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے ہمراہ چند خوشگوار دن گزارنے اور بلوچستان کے حسن سے لطف اندوز ہونے کوئٹہ پہنچے تھے۔ لیکن جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب، ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں مبینہ طور پر راستہ بھٹک جانے کے بعد ان کا سامنا نامعلوم مسلح افراد سے ہوا، جنہوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔
اس اندوہناک واقعے میں علی مرتضیٰ جمیل اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان کی اہلیہ زخمی ہوئیں، جبکہ گاڑی میں موجود ان کی دو معصوم بچیاں روتی بلبلاتی محفوظ تو رہیں مگر زندگی بھر کا صدمہ سمیٹ گئیں۔ اس سانحے کے بعد مقتول کے والد نے تڑپ کر پریس کانفرنس میں کہا کہ "اگر وہاں جانیں محفوظ نہیں تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے"۔ اس تصویر اور خبر نے میرے دل کو بہت تکلیف دی، لیکن چونکہ میں ان علاقوں کے زمینی حقائق اور راستوں کی حساسیت سے واقف ہوں، اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس واقعے کے پیچھے محرکات کچھ اور ہوں گے، اسے محض ایک عام حادثہ، جی پی ایس کی غلطی یا غلط فہمی نہیں کہا جا سکتا۔
زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان کا سامنا اچانک کسی ایسی صورتحال سے ہو جاتا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ یا محض چند منٹوں کی تاخیر کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ سال 2012 یا 2013 کا ذکر ہے، جب میں اپنے اہل خانہ، اهلیہ اور بیٹیوں، کے ساتھ کراچی کا سفر مکمل کرکے براستہ سڑک واپس کوئٹہ آ رہا تھا۔ وہ دن بلوچستان میں سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی کشیدہ اور ناپائیدار تھے، حکومت مخالف گروپس اور دیگر عناصر کی سرگرمیاں عروج پر تھیں اور قومی شاہراہوں پر مسافروں کو نشانہ بنانا معمول بن چکا تھا۔
ہمارے پاس پجیرو 3400cc گاڑی تھی، جس کی طاقت اور رفتار پر مجھے بھروسہ تھا، اس لیے میں گاڑی کو تیزی سے دوڑاتا ہوا منزل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سفر کٹتا گیا، لیکن جب ہم مستونگ کے علاقے کے قریب پہنچے تو شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور عصر کا وقت ہو چکا تھا۔ اچانک سامنے کا منظر دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا، مظاہرین نے سڑک کو مکمل طور پر بلاک کر رکھا تھا اور وہاں شدید قسم کا احتجاج جاری تھا۔ اس ماحول میں وہاں رکنا فیملی کے ساتھ خطرے کو خود دعوت دینے کے مترادف تھا۔
اسی دوران کسی مقامی شخص نے مجھے ایک مشورہ دیا جس نے ہمارے سفر کا رخ بدل دیا۔ اس نے بتایا: "اگر آپ یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں، تو پہاڑوں کے پیچھے سے گھوم کر ایک الگ اور غیر مانوس راستہ نکلتا ہے جو دشت کی طرف سے ہوتے ہوئے "سپیزنڈ" (Spezand) کے پاس پہنچا دے گا۔ وہاں کسی زمانے میں ایک بہت بڑی سیمنٹ فیکٹری ہوا کرتی تھی، یہ راستہ اسی کے پاس نکلتا ہے، لیکن یاد رہے کہ راستہ انتہائی خراب اور سنسان ہے"۔
میرے پاس بڑی اور طاقتور گاڑی تھی اور اس نازک صورتحال میں فیملی کی حفاظت میری اولین ترجیح تھی، اس لیے میں نے کسی مزید تاخیر کے بغیر گاڑی کو اس کچے اور پہاڑی راستے کی طرف موڑ دیا۔ شام ڈھل رہی تھی، اندھیرا پھیل رہا تھا اور کچے راستے پر پجیرو کی رفتار برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ راستہ اتنا پیچیدہ تھا کہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کدھر جانا ہے۔ سڑک کنارے کھڑے کسی بھی مقامی بندے سے جب میں نے راستہ پوچھا، تو اس کے چہرے پر خوف صاف نمایاں تھا، اس نے سہمے ہوئے انداز میں کہا: "بھائی! بس ایسے سیدھے چلے جاؤ اور جلدی نکلو یہاں سے، یہ علاقہ بالکل ٹھیک نہیں ہے"۔
اس سنسان اور کچے راستے پر بڑھتے ہوئے مجھے اپنی وہ پیشہ ورانہ تربیت یاد آ رہی تھی جو ایسے کڑے وقت میں میری سب سے بڑی رہنما بنی۔ دراصل، سال 2009-10 میں، میں نے پاکستان سے باہر بین الاقوامی سطح پر........
