League Of Nations Se Venezuela Tak |
یہ تحریر کسی وقتی جذبات کا عکس نہیں بلکہ تاریخ، طاقت اور قانون کے باہمی تصادم پر ایک سنجیدہ غوروفکر ہے۔ دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں عالمی نظام بکھر رہا ہے اور طاقتور ریاستیں خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگی ہیں۔ ٹرمپ کے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد کی دنیا اگر کسی ایک لفظ میں بیان کی جائے تو وہ غیر یقینی ہے اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہی غیر یقینی کیفیت بالآخر تباہی کی شکل اختیار کرتی ہے۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد انسانیت نے یہ مان لیا تھا کہ اگر طاقت کو کسی اجتماعی اخلاقی و قانونی فریم ورک میں نہ باندھا گیا تو دنیا مسلسل جنگوں کی زد میں رہے گی۔ اسی احساس کے تحت 1919 میں لیگ آف نیشنز وجود میں آئی۔ مگر یہ ادارہ ایک بنیادی کمزوری کے ساتھ معرضِ وجود میں آیا۔ اس کے پاس نہ تو عملدرآمد کی طاقت تھی اور نہ ہی بڑی طاقتوں کو قانون کا پابند بنانے کا کوئی مؤثر طریقہ۔ برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کیے، امریکہ نے شمولیت سے ہی انکار کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی قانون محض کاغذی اصول بن کر رہ گیا۔ یہی وہ خلا تھا جس میں جرمنی میں ہٹلر، اٹلی میں مسولینی اور سوویت یونین میں جوزف سٹالن جیسے آمر........