menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

So Qisson Se Behtar Hai Kahani Mere Dil Ki

6 21
01.01.2026

کہانی در کہانی کسی ایک صنف میں مقید نہیں۔ یہ خودنوشت بھی ہے اور یادرفت بھی۔ عباس تابش کے الفاظ میں "کرداروں کی کہکشاں جسے انھوں نے دیکھا بھی اور بسر بھی کیا"۔ اس کا انتساب بھی جیون کہانی کے حقیقی کرداروں کے نام ہے۔ ڈاکٹر مظفر عباس کے الفاظ میں "یہ محض مضامین نہیں۔ وہ کہانیاں ہیں جو کچھ میری، کچھ اوروں کی اور کچھ ادھر ادھر سے میری ذہنی جولانیوں کا حاصل۔ بات یہ ہے کہ ہم جو ہوتے ہیں وہ چھپاتے ہیں، جو نہیں ہوتے وہ بتاتے ہیں۔ میری کہانیاں تو شروع ہی ہونے سے ہوتی ہیں۔ یعنی جو ہے، جیسا ہے اور جو سامنے ہے"۔

یعنی ظاہر کی آنکھ سے ہی تماشا کرے کوئی۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ زندگی کی بکھری ہوئی کہانیوں کا ایسا مجموعہ ہے جہاں ہر کہانی اپنے اندر ایک اور کہانی سموئے ہوئے ہے۔ یہاں وقت محض گزرنے والی ساعت نہیں۔ ایک زندہ کردار ہے جو کبھی ہاتھ تھام کر آگے بڑھاتا ہے اور کبھی خاموشی سے دل پر نقش چھوڑ جاتا ہے۔

ان صفحات میں عام انسانوں کے درمیان چھپے خواص کے جواہر جھلملاتے ہیں۔ وہ لوگ جو شہرت کے شور سے دور رہ کر بھی اپنے علم، اپنے کردار اور اپنے خلوص سے زندگی کو معنویت عطا کرتے ہیں۔ علمی و ادبی شخصیات کی یادیں یہاں محض تذکرہ نہیں، بلکہ ایک فکری مکالمہ ہیں۔ کبھی کسی نشست کی خوشبو، کبھی کسی جملے کی بازگشت اور کبھی کسی خاموش مسکراہٹ کا اثر جو برسوں بعد بھی ذہن کے دریچوں کو روشن کر دیتا ہے۔

کردار نگاری میں چھجو بھگت سنگھ ہو، ہک ہا بادشاہ،........

© Daily Urdu