Chanday Ke Sandooq Se Nikalti Parchiyan |
چندے کے صندوق سے نکلتی پرچیاں
اس بار مولوی صاحب نے مسجد میں چندہ کا باکس کھولا تو اس میں سے بجلی کے بل، سکول کی فیس اور دوائی کی پرچیاں نکل آئیں۔ پہلے پہل یہ ایک طنزیہ جملہ لگتا ہے۔ مگر درحقیقت یہ آج کے عام آدمی کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔ مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ تنخواہ دار طبقہ مہینے کے پہلے ہفتے ہی حساب کتاب میں اُلجھ جاتا ہے۔ آج حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ عبادت گاہ کے چندے میں بھی لوگوں کی پریشانیاں جمع ہو رہی ہیں۔ بجلی کے بل، بچوں کی فیسیں، دوائیوں کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، مگر ملازمین کی تنخواہیں وہیں کھڑی ہیں۔ لیوانکیشمنٹ جیسی جائز مراعات بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں لیکن ان مسائل پر بات کرنے کے بجائے توجہ کہیں اور موڑ دی جاتی ہے جبکہ مہنگائی کے اعدادوشمار ہر روز ترقی کی نئی کہانیاں سناتے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں تو گویا ہر خرابی کا ذمہ دار صرف استاد ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ استاد قابل نہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ تعلیمی معیار اساتذہ کی وجہ سے گرا ہے اور کبھی پوری نسل کی ناکامی کا بوجھ استاد کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے، مگر کیا کبھی کسی نے یہ سوال کیا کہ آخر وہ مشیر کس قابل ہیں جو برسوں سے تعلیم........