Wali e Kamil, Sheikh e Mukarram Ka Wisal
قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا فرمانِ عبرت نشان ہے کہ " کُلُّ نَفُسٍ ذَائِقَۃُ الُمَوُتِ" یعنی ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ اٹل حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی اور اصل کامیابی رضائے الٰہی میں ہے۔ جب کوئی ولیُ اللہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوتا ہے تو غم اپنی جگہ، مگر اہلِ ایمان کے لیے یہ لمحہ فکر و اصلاح کا پیغام بھی بن جاتا ہے۔ اولیائے کرام کی وفات انجام نہیں بلکہ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں انتقال ہے، جہاں ان کا فیضان اور نسبت اہلِ دل کے لیے ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اس لئے اولیاء کے چراغ بجھتے نہیں، دوام پا لیتے ہیں اور روحانیت و تصوف کے انوار باہم جاری رہتے ہیں۔
اولیائے کرام کی زندگیاں محض شخصی وجود تک محدود نہیں ہوتیں، وہ پورے عہد کی سمت متعین کرتی ہیں۔ ایسے نفوسِ قدسیہ جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو بظاہر ایک چراغ گل ہوتا ہے، مگر درحقیقت اس کی روشنی ہزاروں دلوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، سجادہ نشین خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ صدریہ ہری پور ہزارہ، حضرت علامہ قاضی عبدالدائم دائم قدس سرہ العزیز کی رحلت بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔
قاضی عبدالدائم دائم رحمۃ اللہ سے اکتساب فیض کے لیے ملک بھر سے لوگ عیدگاہ شریف ہری پور کا رخ کرتی تھیں۔ آپ ولی کامل شیخ قاضی صدر الدین علیہ الرحمہ کے اکلوتے فرزند تھے جنھوں نے اپنے........

Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin