Teen Dukh

ابھی لیہ سے صحافی دوست محسن عدیل کی وال پر ایک ویڈیو دیکھی جو انٹی کرپشن لیہ کی ایک سرکاری دفتر پر چھاپے کی تھی جس میں ایک کلرک کو گرفتار کیا گیا اور اس کی جیب سے رشوت کے پچیس ہزار برامد کر لیے گئے۔

ویڈیو دیکھ کر مجھے دو تین افسوس ہوئے۔ ایک یہ کہ اس بندے کو سرکاری نوکری پر تنخواہ مل رہی ہے جس کے بدلے اس نے عوام کے کام میرٹ یا قانون پر کرنے ہیں۔ اگر ایک کام غیرقانونی ہے تو وہ پچیس ہزار سے قانونی کیسے ہوگیا۔ آپ تنخواہ بھی لے رہے ہیں اور رشوت بھی لے رہے ہیں؟ آپ سے کوئی دوسرا ایسے کام کے پیسے مانگے تو کیسا لگتا؟

دوسرا دکھ مجھے اس کا چہرہ دیکھ کر ہوا کہ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ چہرے پر جو شاک کی کیفیت تھی کہ ایک لحمے پہلے آپ جس آفس میں ٹھاٹ باٹ سے بیٹھے گپیں مار رہے تھے اب اس وقت وہیں ملزم بنے کھڑے تھے۔

کیا یہ سب دکھ اور شرمندگی سے پچیس ہزار زیادہ قیمتی تھے؟

تیسرا دکھ مجھے اس بندے کے بچوں کا ہوا جو........

© Daily Urdu