Saniha Pims |
پمز میں جو دل دہلانے والی ٹریجڈی ہوئی ہے وہ پہلی ہے اور نہ ہی آخری۔ دل کو تسلی دینے کیلئے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کا کوئی شخص بھی حادثات سے محفوظ نہیں۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی حادثات ہو جاتے ہیں۔ انسان جب سے پیدا ہوا ہے وہ حادثات کا شکار ہوتا آیا ہے۔ لیکن آپ نوٹ کریں کہ انسان نے ہزاروں سال کے اس سفر میں خود کو دھیرے دھیرے محفوظ بنایا ہے۔ اپنا معیارِ زندگی بہتر کیا ہے۔ زندگی اور معاشرے کو لاحق خطرات کو ایک ایک کرکے کم کیا ہے۔ اگرچہ خطرات مکمل طور پر ختم کبھی نہیں ہوں گے لیکن اگر آپ تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کتنا تکلیف دہ سفر کرکے یہاں تک پہنچا ہے مگر پھر بھی حادثات سے مکمل چھٹکارا نہیں پا سکا۔
میں کئی دفعہ اُس کتاب کا حوالہ دے چکا ہوں، جسے پڑھ کر میری بہت کونسلنگ ہوئی تھی کہ ہم ایک بہتر دنیا میں رہ رہے ہیں۔ مصنف نے اس کتاب کے تعارف میں لکھا تھا کہ موجودہ دور میں جو سات ارب لوگ جی رہے ہیں، وہ انسانی تاریخ کے سب سے سنہرے، خوبصورت اور بہترین دور میں زندہ ہیں۔ اس سے بہتر دور انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا۔ مصنف نے بہت شاندار تحقیق کے بعد کتاب لکھی اور کئی نتائج اخذ کیے، جن میں سب سے بڑا نتیجہ یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تشدد کم ہوا ہے، خون خرابہ، جنگیں کم ہو رہی ہیں۔ مان لیا کہ جنگیں ختم نہیں ہوئیں لیکن ماضی کی نسبت بہت کم ہو رہی ہیں۔ دنیا کے دو سو ممالک میں سے چند ملک اگر جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ انسانی ارتقا ہی کی شکل ہے، ورنہ زمانہ قدیم میں ہر وقت ہر قبیلہ، قوم، نسل، ملک اور معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگیں لڑ رہے ہوتے تھے اور ہر وقت خون خرابہ ہو رہا ہوتا تھا۔ اس........