Iran Aaj Phir Datt Gaya

کل تک جس ایران امریکہ بریک تھرو پر ہم بڑے خوش ہو رہے تھے وہ عارضی نکلا۔ پھر پھڈا ہوگیا ہے۔ بتایا جارہا ہے ایران اور امریکہ میں ابھی بھی نیوکلیر ایشو پر مسائل موجود ہیں اور مزاکرات جمود کا شکار ہیں۔ ابھی بہت کچھ سیٹل ہونا باقی ہے۔

خیر یہ حق تو اس ایرانی قوم کو ہے کہ وہ فیصلہ کرے اس نے کون سا روٹ لینا ہے یا فیصلہ کرنا ہے۔ اگرچہ ان کے فیصلوں کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے اور پڑے گا۔

امریکہ سے ہمارے سینئر صحافی دوست انور اقبال اکثر ہمارے پروگرامز میں کہتے ہیں پاکستان میں گھر چائے پیتے ہوئے ایران کی بہادری اور مزاحمت کی تعریف کرنا آسان ہے لیکن جن عام لوگوں پر گزر رہی ہوتی ہے وہ بہتر جانتے ہیں۔

آپ کی قیادت کا ملکوں کو برباد اور بچانے میں بڑا رول ہوتا ہے۔ صرف دو مثالیں دوں گا۔

جنگ عظیم دوم میں جاپان نے پرل ہاربر پر حملے کا فیصلہ کیا۔ کابینہ کے کچھ ارکان خلاف تھے کہ اس سے امریکہ براہ راست جاپان کے ساتھ جنگ میں آجائے گا۔ نقصان ہوگا۔

دوسرے حملے کے حمایتی ارکان نے ان چند وزراء کو بزدل اور وطن دشمن قرار دیا۔

فرمایا ہم سمورائی جنگجو جاپانیوں کی بہادری کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے۔ امریکہ کی کیا تاریخ ہے........

© Daily Urdu