Ab Pakistan Kahan Se 2 Kabutar Laaye? |
اب پاکستان کہاں سے دو کبوتر لائے؟
کل سے ایران کی فوجی قیادت اور یونیورسٹیز کے پروفیسر دھیرے دھیرے پاکستان کے حوالے سے سخت لہجہ اپنا رہے ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ کی اہمیت پاکستان دورے اور امریکن سے مزاکرات کے بعد زیادہ ہونے کی بجائے کم ہو رہی ہے۔ لہذا ان کا ہرموز کھولنے کے ٹوئٹ کو ان کی آرمی نے مسترد کرکے اسے بند کر دیا ہے اور جنگ کی تیاریاں کررہے ہیں۔
تاہم سپیکر باقر صاحب اب ان ہارڈ لائن فورسز کے لیے اہم ہورہے ہیں جو امریکہ کے ساتھ معاہدے پر تیار نہیں ہیں جس کےبارے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا بس اسلام آباد میں ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔
کل ایک ایرانی یونیورسٹی کے پروفیسر کو سن رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا ان حالات میں ایرانی وزیرخارجہ یا سپیکر پاکستان نہیں جائیں گے اور اگر وہ گئے تو اپنا سیاسی مستقبل تباہ کر بیٹھیں گے اور وہ یہ رسک نہیں لیں گے۔
ایران کو تہران واپس جا کر لگتا ہے اسلام آباد میں ہونے والے مزاکرات میں شاید وہ کچھ زیادہ ہی دینے پر تیار ہوگئے تھے لہذا انہوں نے واپس جاتے ہی اپنی پوزیشن سخت کر لی جس پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکو تہران جانا پڑا۔
جنرل عاصم منیر کی وزٹ کو ایران سمجھتا ہے امریکہ کو bail out کرنے کے لیے ہے نہ کہ ایران کا مفاد دیکھا جارہا ہے۔ ایران کے ایک دانشور کو سنا تو انہوں نے جنرل عاصم کو........