World Inequality Report 2026
ورلڈ ان ایکویلٹی رپورٹ 2026
دنیا کے اقتصادی ماہرین نے یو این ڈی پی کے زیر اہتمام، چند برسوں سے دنیا میں دولت کی غیر مساوی تقسیم کے متعلق ایک دستاویز چھاپنا شروع کی ہے۔ 2026 کی رپورٹ World inequality report 2026دنیا کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والوں میں Thomas Piketty، Joseph Stigpitz اور دیگر اقتصادی دانشور شامل ہیں۔
ان میں سے کسی بھی محقق کا دنیا کے کسی ملک سے بھی کسی قسم کا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ رپورٹ مکمل طور پر غیر متعصب بنیادوں پر لکھی گئی ہے۔ یہ بھی نہیں کہ تمام کام، گھر بیٹھ کر مکمل کر لیا گیا ہو۔ تمام کام سائنسی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے۔ پوری دنیا سے دو سو محققین کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ ان تمام سماجی سائنس دانوں نے پورے سال کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔ اپنے اپنے براعظموں اور ممالک کے نظام کی ساخت کو ریاضت سے بطور محقق پرکھا ہے۔ حکومتی ذرائع اور غیر سرکاری ذرائع، سب کی چھان بین کی گئی ہے۔ اس ڈیٹا کے تجزیہ سے نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔
208 صفحوں پر مشتمل اس رپورٹ میں دنیا کے بیشتر ممالک کو اعداد وشمار کی روشنی میں دیکھا گیا ہے۔ وہاں غربت، دولت، استحصال اور زر کا ارتکاز، تمام بنیادی نکات پر سیر حاصل محنت کی گئی ہے۔ کسی ایک ملک نے بھی اس تحقیقی کام کو سازش سے تعبیر نہیں کیا۔ کسی ایک ریاست نے یہ نہیں کہا کہ تحقیق جانب دارانہ ہے اور پھر اس کے متبادل، ڈیٹا فراہم کیا ہو یا کرنے کی کوشش کی ہے۔
عرض کرنے کا مقصد بالکل صاف ہے۔ یہ ایک حد درجہ مستند کام ہے۔ جس سے دنیا کے تمام ممالک، اپنا چہرہ بڑے آرام سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے عوامی فیصلوں کی تصدیق یا نفی بھی ساتھ ہی ساتھ ہو جاتی ہے۔ پھر اس دستاویز کو مانے بغیر بھی گزارہ نہیں۔ کیونکہ، اس کے شائع شدہ ڈیٹا بیس کے متبادل کسی قسم کے اعداد و شمار وجود نہیں رکھتے۔ تمام عناصر کی تصدیق کرنے کے بعد، محققین نے ہمارے ملک کے متعلق کھل کر لب کشائی کی ہے۔ اگر میری اس تحریر پر اعتماد نہیں تو خود انٹرنیٹ استعمال........
