Tu Ghani Az Har Do Aalam Mann Faqir
تو غنی از ھر دو عالم من فقیر
سچ پوچھیے، تو علامہ اقبال کی شاعری کی فہم، بہت دیر میں آئی۔ انگریزی میں ان کی شہرہ آفاق کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam تو خیر لکھی ہی خواص کے لیے ہے۔ صرف ایک صفحہ کو پڑھنے اور ٹھیک سے سمجھنے کے لیے، ایک گھنٹہ سے تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ دقیق تصنیف Karl Marx کی Das Kapital ہے۔ جس کا ایک ورق پڑھنے کے لیے کم از کم ایک دن درکار ہے۔ سمجھنے کے لیے شاید اس سے بھی زیادہ۔ بہر حال اسکول میں اکثر علامہ کی نظمیں، پڑھی جاتی تھیں۔ مگر ان کی بالکل سمجھ نہیں آتی تھی۔ ابتدائی تعلیم، یعنی ساتویں تک، لائل پور کے ایک انگریزی اسکول میں پڑھتا تھا۔ وہاں بھی اسکول کی انتظامیہ، علامہ کی مشہور نظمیں، کبھی کبھار، دن کے آغاز میں پڑھوا دیتیں تھیں۔ سچ عرض کر رہا ہوں۔ کچھ بھی سمجھ نہیں آتی تھی۔ خیر پھر کیڈٹ کالج حسن ابدال چلا گیا۔ تو وہاں نصاب میں علامہ کی شاعری موجود تھی۔
صدیقی صاحب، جو اردو زبان کے باکمال استاد تھے۔ وہ ہمیں اقبال کے اشعار، ذہن میں اتارنے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔ طلباء، اشعار، ذہن نشین بھی کر لیتے تھے۔ مگر اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ بس، اردو کے امتحان میں اچھے نمبر لینے کے لیے ایک ضروری جزو تھا۔ ہاں، ایک اور اہم بات بھول گیا۔ کیڈٹ کالج میں سالانہ پیرنٹس ڈے(Parents Day) پر تلاوت قرآن حکیم کے بعد، علامہ کی چند مشہور نظموں میں سے ایک تحت اللفظ سنائی جاتی تھی۔ ہمارے پیرنٹس ڈے پر صدر پاکستان، وزیراعظم یا آرمی چیف کی سطح کا آدمی، مہمان خصوصی ہوتا تھا اور صرف ایک دن کی تیاری کے لیے، دو ماہ لگ جاتے تھے۔ اچھی طرح یاد ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق مہمان خصوصی تھے۔ تو........
