Qaleen
جنوری 1258 میں ہلاکو خان کی فوجیں بغداد کے نزدیک پہنچ چکی تھیں۔ خلیفہ وقت المستعصم پوری شان وشوکت کے ساتھ دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہلاکو خان کے ایلچی خلیفہ کے سامنے پیش ہوئے۔ ہلاکوخان کا پیغام دیا کہ اگر آپ کسی بھی مزاحمت کے بغیر، بغداد ہمارے حوالے کر دیتے ہیں تو آپ کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ جان ومال کی حفاظت کی ضمانت دی جاتی ہے۔
عباسی خلیفہ نے اپنے وزیراعظم ابن علقمی کی طرف دیکھا۔ وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جناب پوری اسلامی دنیا کے بادشاہ ہیں کسی بھی حملے کی صورت میں عالم اسلام کا ہر فرزند آپ کو بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دے گا۔ منگول سپہ سالار کو آپ کی اہمیت اور خاندانی پن کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے، بھلا منگولوں کی کیا جرأت کہ بغداد پر حملہ کرنے کا تصور بھی کر سکیں؟ خلیفہ کو وزیراعظم کی لچھے دار تجویز پسند آئی اور ایلچیوں کو بے عزت کرکے دربار سے نکال باہر کیا۔
خلیفہ وقت کی حماقت سمجھئے یا وزیراعظم کی حد درجہ منفی تجویز گردانیے کہ آٹھ سو سالہ عباسی حکومت کا صرف ایک ہفتے میں نام و نشان مٹا دیا گیا۔ دراصل وزیراعظم علقمی، ہلاکو خان سے ساز باز کر چکا تھا، اس نے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے امان حاصل کر لی تھی۔ نادان خلیفہ مکمل طور پر جنگی معاملات سے نابلد تھا۔ اس بے وقوفی کا خمیازہ پورے شہر کو بھگتنا پڑا۔ لاکھوں مسلمان قتل کر دیے گئے۔ ان گنت عورتوں کو منگولوں نے اپنے قبضہ میں کر لیا اور پورے شہر کو کھنڈر بنا دیا۔
ہلاکو خان کے سامنے جب خلیفہ کو پیش کیا گیا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے اور اس کے خاندان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ منگول روایت کے مطابق، مفتوح بادشاہوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا۔ شاہی خاندان کے افراد کو بھی تلوار سے نقصان نہیں پہنچایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ہر ظلم رواں رکھا جاتا تھا۔ ہولناک تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ خلیفہ وقت کی بیٹیوں اور بیٹوں کے ساتھ جوسلوک کیا گیا، وہ لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ صرف المستعصم کے انجام کی بابت گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ منگول قانون کے مطابق بادشاہ کو ایک بیش قیمت قالین........

Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin