menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ishq (2)

17 8
26.01.2026

عبدالرحمن عابد، میرے لیے اجنبی سا نام ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ شاعری فرماتے ہیں۔ جب ان کی شاعری پڑھنی شروع کی تو صاحب، ششدر رہ گیا۔ اتنی بلند خیالی اور سوچنے کا اتنا بڑا کینوس۔ عابد صرف شاعر ہی نہیں، حد درجہ اعلیٰ شاعر ہے۔ کمال سوچنے والا انسان، پتہ نہیں، پہلے اس کے اشعار، نظرسے کیوں نہیں گزر پائے۔ اس پر بہر حال افسوس ہے۔ ویسے دکھ اور غم تو بہت سے ہیں۔ مگر کیا کریں، انھیں کے جھرمٹ اور پناہ میں سانس لینی ہے۔

خواہش تھی کہ کینیا کے کسی سفاری پارک میں دو تین ماہ اکیلا گزاروں۔ خدا کی بنائی ہوئی خوبصورت ترین مخلوق، یعنی پرندوں اور جانوروں کو قدرتی ماحول میں دیکھوں۔ مسائی قبیلہ کے ساتھ، ہاتھ میں لاٹھی پکڑ کر ان کا ہزاروں سال قدیم رقص کروں۔ پر نہ کر پایا۔ اس لیے کہ وقت ہی نہیں مل سکا۔ یہ بھی تمنا تھی، کہ پیرا گلائیڈنگ سیکھوں۔ ہوا میں اڑتے اڑتے، بادلوں کو محسوس کر سکوں۔ روئی کے ان گالوں کے ساتھ کھیلوں، مگر یہ خواب بھی ادھورا رہ گیا۔ چلیے اس قصے کو جانے دیجیے۔ مگر ایک مسلسل غم کا شکار ہوں کہ علم حاصل نہ کر سکا۔ جتنا پڑھتا ہوں، اپنے جاہل ہونے کا احساس بڑھتا جاتا ہے۔ ہاں اہل صفا کی جوتیاں سیدھی کرتا رہتا ہوں تاکہ کچھ عطا ہو جائے۔ دیکھئے کب مہربانی ہوتی ہے۔

اتفاق سے، عابد کی کتاب "عشق" پڑھنے کا لاجواب موقع ملا۔ یہ شخص اتنی لازوال شاعری کرتا ہے۔ نہیں معلوم........

© Daily Urdu