menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Fikr Ko Tabdeel Kijye

17 10
19.01.2026

چندر گپت موریا اور اشوک کے زمانے سے برصغیر کے معاملات کا احاطہ کیجیے۔ چند اجزاء مسلسل ایک جیسے نظر آئیں گے۔ پہلی بات تو یہ، کہ دولت اور اقتدار ہمیشہ ایک ہی شخص یا اس کے نزدیک ترین لوگوں کے درمیان رہا ہے۔ خاندانی بادشاہت ہمیشہ قائم و دائم رہی ہے۔ یعنی پورے ہندوستان میں دھن، دولت اور اقتدار، صرف اور صرف چند خوش قسمت افراد کے ہاتھ میں رہا ہے۔

آٹھ نو صدیاں پہلے، حکومت، ان مسلمانوں کے ہاتھ میں چلی گئی جن کا اس علاقہ سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے مزاج شاہی اور پہلے کے حکمرانوں میں رتی بھر بھی فرق نہیں تھا۔ داد عیش اور ذاتی آرام کے سوا، ان کا مقصد حیات کچھ بھی نہیں تھا۔ تنقیدی نظر سے دیکھیں، تو ہندو اور مسلمان بادشاہوں کے طرز حکومت اور رہن سہن میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ ڈھائی ہزار برس سے برصغیر میں حکمرانوں کی سطح پر کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی۔ بلکہ کسی بھی بدلاؤ کے امکانات کی مکمل بیخ کنی کی گئی ہے۔ وہی حکمرانوں کے محلات، ان گنت کنیزیں، دن اور رات کے شاہانہ شوق اور عام لوگوں سے دوری، سب کچھ بغیر کسی تبدیلی کے جاری ہے اور آج بھی وہی حالات ہیں۔ دوسری بات، بھی حد درجہ اہم ہے۔

عام آدمی کی حالت، نہ پہلے کبھی بہتر تھی اور نہ ہی آج اس کی بہتری کے امکانات ہیں۔ دہلی، جو عرصہ دراز سے دارالحکومت رہا ہے، اس میں کیا تھا؟ بادشاہ کا لال قلعہ، چند فقید المثال مقبرے، سطوت شاہی کے چند نشانات، اس کے علاوہ، عام آدمی کے لیے کیا سہولتیں تھیں؟ دہلی کی کم از کم ایک ہزار سالہ تاریخ تو موجود ہے۔ خود ملاحظہ فرما لیجیے۔ عوام کے لیے، کچی پکی، سڑکیں، گلیاں، نکاسی آب کا بوسیدہ سا نظام، بے ڈھنگے بازار، سرکاری اعمال کی چیرہ دستیاں اور ایک ایسا رہن سہن، جس میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ ہاں، لال قلعہ میں ہر دن اور رات، جشن ہوتا تھا۔ عام آدمی کا بے حد ابتر حال تھا۔ حکمران طبقے اور عام لوگوں میں ہزاروں نوری سال کا فرق تھا۔ جدید سائنسی تعلیم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

عام........

© Daily Urdu